10

بجلی کے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی حکومت نے بجلی کے نظام میں لوڈشیڈنگ کو پورے فیڈر کے بجائے مخصوص ٹرانسفارمر کی سطح تک محدود کرنے کے لیے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے میڈیا سے گفتگو اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بتایا کہ نئے نظام کے تحت پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ جس مخصوص ٹرانسفارمر پر بجلی چوری یا زیادہ نقصانات کی نشاندہی ہوگی، صرف اسی ٹرانسفارمر کی بجلی بند کی جا سکے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق ٹرانسفارمر کو آن اور آف کرنے کا یہ نظام دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال ہونے والا تصور ہے، جبکہ اس حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ نظام میں تبدیلی کے بعد بعض صارفین نے بیٹریاں لگانا شروع کردی ہیں، جس سے چند لاکھ صارفین کا بجلی کے نظام پر بوجھ باقی صارفین پر منتقل ہونے سے روکا گیا ہے۔

### ڈسکوز کے نظام اور ٹرانسفارمرز پر اجلاس میں بریفنگ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس محمد ادریس کی زیرصدارت ہوا، جس میں ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق مون سون کے دوران 8 اضلاع میں 150 ٹرانسفارمرز فراہم کیے گئے۔

اجلاس میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن پڈھیانہ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بابر نواز نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے 2018 سے قبل فنڈز مختص کیے گئے تھے، تاہم ان کے مطابق سابق وفاقی وزیر کی مداخلت کے باعث گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ متاثر ہوا۔ انہوں نے وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے جواب میں مبینہ غلط بیانی کا معاملہ اٹھایا۔

انجینئر قمر اسلام راجہ نے بتایا کہ رپورٹ میں منصوبے کا 80 فیصد کام مکمل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد منصوبے کی منتقلی ممکن نہیں رہی۔ وفاقی وزیر توانائی نے سوال کیا کہ گرڈ اسٹیشن منتقل کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر کیا گیا اور کسی رکن قومی اسمبلی کے کہنے پر گرڈ کو منتقل کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

### بجلی چوری اور لوڈشیڈنگ پر وزیر توانائی کا مؤقف

اویس لغاری نے کمیٹی کو بتایا کہ بعض مقامات پر ڈیمانڈ نوٹس میں مبینہ ملی بھگت کے ذریعے بجلی کا لوڈ کم ظاہر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نظام پر غیر متوقع اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

انہوں نے ڈسکوز کے بعض اہلکاروں پر رشوت کے ذریعے لوڈ کم درج کرنے کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنے والے متعدد فیڈرز کی وجوہات میں بجلی چوری اور ڈسکوز کے نظام سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ڈسکوز کا نظام کئی مقامات پر اوورلوڈ ہوچکا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہر حلقے میں تقریباً 60 کروڑ سے ایک ارب روپے تک سرمایہ کاری درکار ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جسے طویل مدت میں صارفین سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز کی بہتری کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً 14 ہزار فیڈرز ہیں، جن میں سے ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر بجلی چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ ایک سال میں فیڈر کی بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ منتقل کرنے کا ہدف ہے، تاکہ بجلی چوری یا زیادہ نقصانات والے مخصوص علاقوں تک بجلی کی بندش محدود رکھی جا سکے۔

### پیک آورز، گیس اور آئی پی پیز سے متعلق وضاحت

وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ پیک آورز میں بعض گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو نہ چلانے کا فیصلہ فیول کاسٹ میں اضافے کے تناظر میں کیا گیا۔ ان کے مطابق گیس کے کارگو کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اویس لغاری نے آئی پی پیز سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی آئی پی پی کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے میڈیا میں غلط خبریں نشر ہوئیں۔

### حکومتی رکن کی لوڈشیڈنگ اور بجلی بلوں پر تشویش

اجلاس میں کمیٹی کے رکن رانا محمد حیات پاور نے اپنی ہی حکومت کی بجلی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی کے بل اسی طرح بڑھتے رہے تو عوام کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی، جبکہ زرعی شعبے میں مہنگی بجلی کے اثرات پیداوار اور برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رانا محمد حیات نے کہا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے۔ جواب میں اویس لغاری نے ان کے بعض بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کے دعوے کو ثابت کیا جائے۔

### بیٹری سسٹم کے فروغ کا منصوبہ

اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں بیٹری سسٹم کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور صارفین رات کے اوقات میں ذخیرہ شدہ بجلی استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈسکوز کو بھی بیٹری سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی شہریوں، کاروبار، تعلیم اور صحت سمیت بنیادی عوامی ضروریات سے براہِ راست منسلک ہے۔ ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کا نظام متعارف کراتے وقت ضروری ہے کہ بجلی کی بندش کے معیار، دورانیے اور وجوہات واضح اور شفاف ہوں تاکہ کسی علاقے یا صارف کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ بجلی چوری اور لائن لاسز کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ جائز صارفین کو غیرضروری لوڈشیڈنگ سے تحفظ، مناسب شکایتی نظام اور بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنانا بھی عوامی مفاد میں ہے۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور نرخوں سے متعلق فیصلوں کے اثرات کم آمدنی والے گھرانوں، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں پر بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد، شفافیت اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ رپورٹ، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے بیانات اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے۔ بجلی چوری، رشوت، لوڈ کم ظاہر کرنے، منصوبے کی منتقلی اور دیگر معاملات سے متعلق الزامات کو متعلقہ افراد کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔ نئے ٹرانسفارمر سطح کے نظام اور ریگولیٹری فریم ورک کی حتمی تفصیلات متعلقہ حکام کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں