21

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) —** وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کے سامنے خود دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ اپنی مرضی سے استعفیٰ دیتا ہے، تاہم علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا۔

شیر افضل مروت نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کوئی نااہل شخص ریاستی معاملات نہیں چلا سکتا۔ درخواست میں سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے عمل اور اس کے آئینی جواز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عدالت کی جانب سے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے بعد معاملہ آئینی اور قانونی نکات کی روشنی میں مزید زیرِ بحث آئے گا۔

### انسانی حقوق کا زاویہ

وزیراعلیٰ کے انتخاب جیسے معاملات براہِ راست آئینی حکمرانی، جمہوری نمائندگی اور عوام کے حقِ حکمرانی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے تنازعات میں شفاف، غیر جانب دار اور آئین کے مطابق عدالتی عمل عوام کے اعتماد اور ریاستی اداروں کی ساکھ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

### Human Angle

خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے وزیراعلیٰ کا انتخاب محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے تسلسل، انتظامی استحکام اور عوامی مسائل کے حل سے بھی وابستہ ہے۔ عدالت میں اٹھائے گئے آئینی سوالات کا واضح اور قانونی فیصلہ سیاسی غیر یقینی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

### HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آزاد انسانی حقوق صحافت اور عوامی آگاہی کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے HRNW کو آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### Disclaimer

یہ خبر دستیاب عدالتی کارروائی اور درخواست گزار کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ درخواست میں عائد کیے گئے الزامات اور قانونی مؤقف حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں