**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) —** قیدی کے نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے جیل مینول، قیدیوں کے مساوی سلوک اور نجی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اہم سوالات اٹھا دیے۔
سماعت کے دوران **جسٹس عامر فاروق** نے ریمارکس دیے کہ پرائیویٹ ہسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ قیدی کو نجی ہسپتال کیوں منتقل کیا جائے، **پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہوسکتا؟**
**جسٹس علی باقر نجفی** نے ریمارکس دیے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جیل مینول کی بنیاد پر دلائل دیے جا رہے ہیں تو پھر اس پر عمل بھی ہونا چاہیے، جبکہ ہر شخص کے لیے الگ طریقہ کار نہیں ہوسکتا اور تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
دوران سماعت وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے قیدی کو گزشتہ دو ماہ کے دوران **آٹھ مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا** اور بہتر علاج کی سہولت کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ان کے موکل کے کیس میں ہسپتال کی رپورٹس بھی ان کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں۔
وکیل نے دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک مقدمے کا حوالہ بھی دیا۔ اس پر **چیف جسٹس امین الدین خان** نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسی بات تھی تو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جاتی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال کیا کہ **آپ اسی مقدمے میں فریق کیوں نہ بنے؟**
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ مقدمہ آئینی درخواست کے ذریعے دائر کیا گیا ہے، جبکہ ان کے مطابق آئینی درخواست کی اپیل آئینی عدالت میں ہوسکتی ہے۔
عدالت نے کیس کو **ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کل تک نوٹسز جاری کردیئے۔**
### Human Angle
قیدی بھی بنیادی انسانی حقوق، مناسب طبی سہولیات اور باعزت سلوک کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم طبی سہولتوں کی فراہمی میں شفاف، یکساں اور واضح اصولوں کا اطلاق تمام قیدیوں کے لیے ضروری ہے تاکہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ HRNW کے اس نیک مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر دورانِ سماعت سامنے آنے والے عدالتی ریمارکس اور فریقین کے وکلاء کے دلائل کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ حتمی فیصلہ عدالت کے آئندہ احکامات سے مشروط ہے۔


