16

بلوچستان کی قومی اسمبلی نشستیں 16 سے بڑھا کر 41 کرنے کی تجویز زیرِ غور

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد **16 سے بڑھا کر 41** کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

جاوید چوہدری کے مطابق بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشستیں کم ہونے کے باعث مرکزی سیاسی جماعتوں کی جانب سے صوبے کو وہ سیاسی اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق نشستوں میں اضافہ ہونے کی صورت میں وفاقی سطح پر بلوچستان کی سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے اپنے تجزیے میں مؤقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی بڑھنے سے مرکزی سیاسی جماعتوں کی صوبے میں دلچسپی بھی بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے مسائل اور مطالبات کو وفاقی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

جاوید چوہدری کے تجزیے کے مطابق قومی اسمبلی میں بلوچستان کی زیادہ نمائندگی صوبے کی سیاسی آواز کو مضبوط بنانے اور وفاقی سطح پر وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم معاملات پر مؤثر کردار ادا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم واضح رہے کہ **قومی اسمبلی کی نشستیں 16 سے بڑھا کر 41 کرنے سے متعلق یہ جاوید چوہدری کا تجزیہ اور دعویٰ ہے**۔ اسے فی الحال حتمی سرکاری فیصلہ یا منظور شدہ تجویز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس حوالے سے کسی باقاعدہ حکومتی اعلان یا سرکاری نوٹیفکیشن کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

قومی اسمبلی میں کسی صوبے کی نمائندگی کا تعلق سیاسی شرکت، جمہوری نمائندگی اور عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں پارلیمان تک پہنچانے سے ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور مختلف جغرافیائی و انتظامی مسائل رکھنے والے صوبے میں انتخابی نمائندگی سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ شفاف آئینی و قانونی طریقہ کار، آبادی کے اعدادوشمار اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، جمہوری اقدار، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری کے تجزیے اور دعوے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق کسی حتمی حکومتی فیصلے، قانونی منظوری یا سرکاری نوٹیفکیشن کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اس دعوے کو حتمی فیصلہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں