**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ **سہیل آفریدی** کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی درخواست باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرلی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس **امین الدین خان** کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے رکن قومی اسمبلی **شیر افضل مروت** کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ کا استعفیٰ رضاکارانہ ہونا چاہیے، تاہم ان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ **علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کہنے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا**۔
درخواست گزار نے عدالت سے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی بھی استدعا کی ہے۔ درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ نااہل شخص ریاستی معاملات نہیں چلا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبر پختونخوا حکومت کو نوٹس جاری کیے، جبکہ عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔ عدالت نے مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
دستیاب عدالتی رپورٹ کے مطابق علی امین گنڈاپور نے 8 اکتوبر 2025 کو وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا۔ سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں 90 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
وزیراعلیٰ کے انتخاب اور استعفے سے متعلق آئینی معاملات میں شفاف عدالتی عمل، فریقین کو مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع اور آئین و قانون کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونا کسی فریق کے مؤقف کو درست یا غلط ثابت نہیں کرتا؛ معاملے کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر عدالتی کارروائی اور درخواست گزار کے مؤقف پر مبنی ہے۔ درخواست میں عائد کیے گئے الزامات یا سیاسی دعووں کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔ کیس کا حتمی نتیجہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سے طے ہوگا۔


