24

28ویں آئینی ترمیم میں استثنیٰ کی شق ختم ہونے کا امکان، محمد مالک کا دعویٰ

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — سینئر صحافی اور تجزیہ کار **محمد مالک** نے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ **28ویں آئینی ترمیم** میں صدرِ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے حوالے سے مبینہ طور پر دی گئی استثنیٰ کی شق ختم کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

محمد مالک کے مطابق **27ویں آئینی ترمیم** کے ذریعے آئین کے **آرٹیکل 248** میں تبدیلی کی گئی، جس کے نتیجے میں صدرِ پاکستان کو مبینہ طور پر تاحیات قانونی استثنیٰ حاصل ہوا، یعنی ان کے بقول صدر کے خلاف سابقہ یا نئے مقدمات کے حوالے سے تحفظ فراہم کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی نوعیت کا تحفظ **چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے** کو بھی دیا گیا ہے۔

محمد مالک کے مطابق اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ متعلقہ حلقوں میں یہ رائے زیرِ بحث ہے کہ یہ شق زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی اور اگر اس معاملے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تو اسے برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

ان کے بقول اسی تناظر میں **28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے استثنیٰ کی شق ختم کرنے** کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔

### انسانی پہلو (Human Angle)

آئینی استثنیٰ اور اعلیٰ ریاستی عہدیداروں کے قانونی احتساب کا معاملہ براہِ راست **قانون کی حکمرانی، مساوات، انصاف اور شہریوں کے اعتماد** سے جڑا ہے۔ کسی بھی آئینی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ شفاف پارلیمانی عمل، عدالتی نگرانی اور بنیادی حقوق کے تناظر میں لینا ضروری ہے۔

### HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزاد اور حقوق پر مبنی صحافت کے ذریعے عوامی آگاہی کے لیے کام کرتا ہے۔

HRNW کے مشن کی حمایت کریں:

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ خبر محمد مالک کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بیان کردہ تجاویز یا ممکنہ تبدیلیوں کی سرکاری طور پر حتمی منظوری کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ آئینی ترامیم اور قانونی استثنیٰ سے متعلق حتمی حیثیت متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن، پارلیمانی کارروائی اور قانونی متن سے طے ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں