**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پیفٹک ہیڈکوارٹرز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ہب کی ای لانچنگ اور منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر اے آئی ہب کے منصوبے، سیکیورٹی، جرائم کی روک تھام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ چند ماہ قبل آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حوالے سے پیش کیا گیا تصور اب عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے پاک فوج اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ وقت میں اے آئی ہب کے قیام پر وزیر داخلہ خواجہ سلمان رفیق، سیکرٹری داخلہ احمد جاوید قاضی اور دیگر افسران مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مریم نواز شریف کے مطابق پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے متحد ہوکر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے مختلف چیلنجز کے باوجود قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں اور پنجاب مشکل حالات میں عوام کو فوری رسپانس فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اے آئی ہب کے قیام کے بعد اضلاع میں قائم آرڈینیشن کمیٹیوں کو ڈیجیٹل الرٹس جاری کیے جائیں گے، جس سے ممکنہ واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیفٹک کا قیام پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف ٹائم رسپانس کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صوبہ بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ٹرائی بارڈر ایریا اور قریبی صوبوں سے سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہتا ہے، جبکہ ماضی میں چیک پوسٹوں پر حملوں کے دوران متعدد اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے مطابق اب جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط بنایا گیا ہے اور بلٹ پروف تھرمل و نائٹ ویژن کیمروں سمیت جدید آلات نصب کیے گئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ کچے کا علاقہ ماضی میں دہشت گردی اور جرائم کا مرکز بن چکا تھا، تاہم ریاستی رٹ قائم ہونے کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق جرائم میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اقلیتوں کے ساتھ جرائم اور نامناسب سلوک کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات اب برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے منشیات کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں منشیات نئی نسل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی تھی، تاہم اب صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے مذہب کے نام پر منافرت پھیلانے والے عناصر کے حوالے سے کہا کہ ایسے عناصر سے نمٹنے کے لیے پولیس کو اپنے دیگر فرائض کے ساتھ اضافی ذمہ داریاں بھی ادا کرنا پڑتی تھیں۔ ان کے مطابق محرم الحرام، عید میلاد النبیؐ اور دیگر مذہبی تہوار مجموعی طور پر بہتر ماحول میں گزرے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ قانون کا نفاذ بلاامتیاز اور انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران صرف ریڑھی والوں کو ہٹانا کافی نہیں سمجھا گیا بلکہ انہیں روزگار کے لیے متبادل جگہیں فراہم کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
ہیلمٹ کے قانون کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کا نفاذ ایک مشکل کام تھا، تاہم اب اس حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو روزگار کے لیے موٹر سائیکل پر گھر سے باہر بھیجنے والی ماؤں کی فکر بھی حکومت کو ہے، اسی لیے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ لاہور میں ٹریفک کے لیے لین ڈسپلن نافذ کرنے کی کوشش جاری ہے جبکہ پنجاب بھر میں زیبرا کراسنگ کے نفاذ پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پیدل چلنے والوں کو بھی ٹریفک قوانین اور نظم و ضبط کی پابندی کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔
بسنت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور تاریخی طور پر بسنت کے حوالے سے معروف رہا ہے، تاہم ڈور سے شہریوں کے زخمی اور جاں بحق ہونے کے واقعات کے باعث پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔ ان کے مطابق لاہور میں محفوظ بسنت کا انعقاد ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن اسے حفاظتی اقدامات کے ساتھ منعقد کیا گیا اور مقررہ وقت شام پانچ بجے کے بعد پتنگ بازی روک دی گئی۔
بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات پر مریم نواز شریف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم انسانیت اور معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں اور عوام کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے تعمیر ہو رہے ہوں لیکن شہری کا جانور، موٹر سائیکل یا گاڑی چوری ہو جائے یا کسی غریب شخص کا سرمایہ لٹ جائے تو ایسی ترقی کے ثمرات محدود ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ امن و امان کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے۔
کرپشن کے خلاف اقدامات کے حوالے سے مریم نواز شریف نے کہا کہ فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جہاں بھی کرپشن کی نشاندہی ہوگی، وہاں کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام میں کرپشن کی نشاندہی کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی اور معطلی عمل میں لائی گئی۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں کرپشن کے خلاف ایکشن زیادہ کیا جا رہا ہے اور جہاں بھی بدعنوانی سامنے آئے گی اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو کرپشن کی نشاندہی کے لیے ہیلپ لائن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے اور ثبوت سامنے آنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ آئی جی پنجاب، آر پی اوز اور دیگر متعلقہ افسران کو کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی اور انہیں محکمہ پولیس سے الگ کرنے کے حوالے سے تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمز بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ڈیوٹی کے دوران ان کی سرگرمیوں اور فرائض کی نگرانی ممکن ہو سکے۔
بارشوں اور شہری نکاسی آب کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ سال بارشوں کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری ٹیم نے متحد ہوکر کام کیا۔ رواں سال بھی شدید بارشوں کے باوجود سیوریج اور ڈرینج کے مسائل کے درمیان بارشی پانی نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ان کے مطابق پنجاب بھر کے سیوریج اور ڈرینج نظام کی مکمل درستگی اور بحالی کے لیے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے درکار ہیں۔
مریم نواز شریف نے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں ہوگا تو ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں دنیا میں موجود تصور کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دعا ہے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جرائم کی روک تھام، ہنگامی حالات میں فوری ردعمل اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم سیکیورٹی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ شہریوں کی **رازداری، قانونی حقوق، شفاف نگرانی، ڈیٹا کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ** کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
جرائم کے خلاف کارروائی میں قانون کی حکمرانی، منصفانہ تفتیش، بلاامتیاز احتساب اور شہری آزادیوں کا احترام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ٹریفک قوانین، تجاوزات اور دیگر انتظامی اقدامات میں عوامی تحفظ کے ساتھ متاثرہ افراد کے روزگار اور بنیادی حقوق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal
آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ، انسانی حقوق کی آواز کو اجاگر کرنے اور عوامی مفاد کی خبروں کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے HRNW کی معاونت کیجیے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
اس خبر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے اے آئی ہب، سیکیورٹی، جرائم میں کمی، کرپشن، ٹریفک قوانین اور دیگر حکومتی اقدامات سے متعلق دیے گئے بیانات اور اعداد و شمار ان کے سرکاری مؤقف کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں اور اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ متعلقہ اداروں اور دیگر فریقین کو اپنے مؤقف کی وضاحت پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔


