**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ تشدد کے مقدمے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔
عدالت میں ڈیفنس میں پیش آنے والے مبینہ تشدد کے واقعے سے متعلق متاثرہ خاندان کی جانب سے دائر **22 اے اور ضمانت کی درخواستوں** پر سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے واقعے سے متعلق استفسار کیا تو متاثرہ خاتون سیدہ نور العین نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مریم علی مبینہ طور پر مینٹیننس کے معاملے پر انہیں مسلسل پریشان کرتی تھیں۔ ان کے مطابق مینٹیننس کے اخراجات وہ خود برداشت کرتے تھے، تاہم اس کے باوجود بار بار رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔
نور العین کے مطابق واقعے والے روز بھی پارکنگ کے معاملے پر جھگڑا ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود پولیس نے ان کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ **”تشدد بھی ہم پر کیا گیا اور مقدمہ بھی ہم پر ہی درج کیا گیا”**۔ ان کے مطابق پولیس سے رجوع کرنے کے باوجود مبینہ طور پر بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث متاثرہ خاندان تشدد اور مقدمے کے بعد شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔
متاثرین کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور درخواست گزاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب مریم علی کی جانب سے ان کے وکیل نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کرایا، جس کے بعد مریم علی کے وکیل کو مقدمے کی نقول فراہم کردی گئیں۔ وکیل نے مقدمے کی تیاری کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔
عدالت نے 22 اے اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت **8 ستمبر** تک ملتوی کردی۔
درخواست گزار سیدہ نور العین نے مقدمہ درج کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس میں مریم علی رضا اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب سیشن عدالت جنوبی میں خاتون کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں حمیرا نامی خاتون کی عبوری ضمانت کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ حمیرا مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی کی والدہ ہیں۔
عدالت نے مدعیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا اور حمیرا کی عبوری ضمانت میں بھی **8 ستمبر تک توسیع** کردی۔
رپورٹ کے مطابق مریم علی کی جانب سے درخشاں تھانے میں متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا، جس سے متعلق قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
تشدد سے متعلق کسی بھی شکایت پر پولیس کی جانب سے غیر جانب دار، شفاف اور بروقت تحقیقات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ متاثرہ افراد کو اپنی شکایت درج کرانے، قانونی معاونت حاصل کرنے اور بلاامتیاز انصاف تک رسائی کا حق حاصل ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران تمام فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا یکساں موقع دیا جانا چاہیے، جبکہ کسی بھی فریق کو عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اگر کسی شہری کو تشدد یا دھمکیوں کا سامنا ہو تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے قانونی تحفظ فراہم کریں اور شکایت پر شواہد کی بنیاد پر کارروائی کریں۔ اسی طرح پولیس اور تفتیشی افسران کی عدالت میں بروقت پیشی عدالتی عمل اور انصاف کی مؤثر فراہمی کے لیے ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، انصاف، قانون کی بالادستی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آزاد صحافتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوامی مفاد کی صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**HRNW Support Appeal:**
[HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں تشدد، مقدمات اور پولیس کی کارروائی سے متعلق تفصیلات دستیاب عدالتی کارروائی، درخواست گزاروں کے مؤقف اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ فریقین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ تمام نامزد افراد کو عدالت کے حتمی فیصلے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا اور مقدمے کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالت کے فیصلے سے طے ہوگی۔


