**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** — پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کو آن لائن ہراسانی، غیر اخلاقی مواد، سائبر بُلنگ اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔
قرارداد میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے والے صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل نظام متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کم عمر بچوں کو انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ اور غیر مناسب مواد سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
ارکان اسمبلی کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کی آن لائن حفاظت ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، جس کے لیے والدین، ریاست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی، استحصال اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے محفوظ رکھنا ان کے تحفظ اور فلاح سے متعلق اہم معاملہ ہے۔ تاہم، کسی بھی پابندی یا عمر کی تصدیق کے نظام کو نافذ کرتے وقت بچوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ **رازداری، تعلیم تک رسائی اور ڈیجیٹل حقوق** کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
شفاف قانون سازی، مؤثر عمر کی تصدیق اور والدین و بچوں میں ڈیجیٹل آگاہی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات ثابت ہوسکتے ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
**HRNW Support:**
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور اسمبلی کی قرارداد سے متعلق بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قرارداد کی منظوری کو حتمی قانون یا نافذ شدہ پابندی تصور نہ کیا جائے جب تک متعلقہ قانونی اور حکومتی مراحل مکمل نہ ہوجائیں۔ مزید پیش رفت متعلقہ حکام کے فیصلوں اور سرکاری نوٹیفکیشن سے واضح ہوگی۔


