**کشمیر (ایچ آراین ڈبلیو)**کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ وزیراعظم بنائے جانے کے معاملے پر احتجاجی دھرنے کے سامنے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نزیر کشمیری نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ سیاسی نظام اور انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
عمر نزیر کشمیری نے کہا کہ ان کا اختلاف موجودہ «سسٹم» اور «منافقانہ نظام» سے ہے۔ ان کے مطابق انتخابات کے نام پر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن میں عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بات کرنے والے اگر عوامی رائے اور مینڈیٹ کا خیال نہ رکھیں تو ایسے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص اگر دو مرتبہ انتخابات ہار چکا ہو اور اسے وزیراعظم بنا دیا جائے تو یہ کس نوعیت کی جمہوریت ہے؟
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ «ایسی جمہوریت پر لعنت ہو جو عوامی مینڈیٹ کا بھی خیال نہ رکھے۔»
انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ سے متعلق بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام نے منتخب نہیں کیا بلکہ «مسلط کیا گیا ہے» اور یہ مبینہ طور پر جبر کی بنیاد پر کیا گیا۔
عمر نزیر کشمیری کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں سیاسی نظام، حکومتی فیصلوں اور عوامی مینڈیٹ سے متعلق احتجاج اور بحث جاری ہے۔
## ⚖️ انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عوامی نمائندگی، آزادانہ سیاسی عمل اور عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔ سیاسی عہدوں پر تقرریوں اور انتخابی عمل سے متعلق اختلافات کو شفاف، آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
احتجاج کرنے والے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کو بھی پرامن اظہارِ رائے اور اجتماع کے قانونی حق کا تحفظ ملنا چاہیے، جبکہ تمام فریقین کے مؤقف کو غیر جانب دارانہ انداز میں سامنے لانا عوامی مفاد میں ہے۔
## 🤝 HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، عوامی مسائل اور انصاف سے متعلق معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ آپ کی معاونت آزاد اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے اور مزید معلومات کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## ⚠️ Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور عمر نزیر کشمیری سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کیے گئے سیاسی الزامات اور دعوے متعلقہ مقرر کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ HRNW کسی سیاسی فریق کے دعوے کی آزادانہ طور پر توثیق یا تردید نہیں کرتا۔


