اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، وفاقی حکومت کے قرضوں میں ابتدائی 28 ماہ کے دوران 18 ہزار 832 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ملکی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے جون 2026 کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 16 ہزار 766 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضے میں 2 ہزار 66 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
دستاویزات کے مطابق مذکورہ 28 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 18 ہزار 832 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں اوسطاً روزانہ 22 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ بنتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کے باعث ملکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ حکومت کے لیے قرضوں کے مؤثر استعمال، مالیاتی نظم و ضبط اور آمدنی میں اضافے کی پائیدار حکمت عملی اہمیت رکھتی ہے۔
انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کا براہِ راست تعلق عوامی وسائل، ٹیکسوں، مہنگائی، ترقیاتی اخراجات اور بنیادی سہولیات سے ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کے استعمال میں شفافیت برقرار رکھی جائے اور حاصل کیے گئے مالی وسائل ایسے منصوبوں پر خرچ ہوں جن سے عوام کو حقیقی معاشی اور سماجی فائدہ پہنچے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، معاشی انصاف، مزدوروں کے حقوق، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر اسٹیٹ بینک کی دستاویزات سے متعلق فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قرضوں کے اعداد و شمار اور ان میں اضافے کی تشریح دستیاب دستاویزات کے مطابق کی گئی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کا مزید مؤقف یا تازہ اعداد و شمار سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔


