**کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو)،** جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور سینیٹر **کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ** نے سوراب کے علاقے گدر میں جیٹ طیاروں کی مبینہ بمباری کے نتیجے میں **8 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات** پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر شہری آبادی پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے تو یہ **انتہائی سنگین معاملہ** ہے۔ حکومت فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے اور حقائق عوام کے سامنے لائے۔
انہوں نے کہا کہ **شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے**، جبکہ کسی بھی سیکیورٹی آپریشن کے دوران شہری آبادی کو نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مطالبہ کیا کہ گدر واقعے کی **شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات** کرائی جائیں، جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں درست معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ **بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ضیاع کسی صورت قابل قبول نہیں**، حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
**انسانی حقوق کا پہلو:**
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق کسی بھی سیکیورٹی کارروائی کے دوران شہریوں، خواتین اور بچوں کے **حقِ زندگی اور تحفظ** کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شہری ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی اطلاعات کی صورت میں شفاف، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کی بروقت دادرسی ضروری ہے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، شہریوں کے حقوق، خواتین و بچوں کے تحفظ، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو سپورٹ کریں۔
**ڈس کلیمر:** یہ خبر **سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بیان اور فراہم کردہ معلومات** کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ گدر، سوراب میں مبینہ جیٹ بمباری اور ہلاکتوں سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ حکومت، سیکیورٹی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔ ایچ آراین ڈبلیو تمام فریقین کا مؤقف غیر جانب دارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کرنے کے اصول پر کاربند ہے۔


