17

ورلڈ ویژن نے کمزور بچوں اور خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی انسانی امدادی پروگراموں میں توسیع کر دی

مونروویا، کیلیفورنیا، امریکہ (HRNW): ورلڈ ویژن انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی غذائی عدم تحفظ، بے گھر ہونے کے بحران اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے انسانی امدادی پروگراموں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ یہ مسیحی انسانی ہمدردی کی تنظیم حکومتوں، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بچوں اور خاندانوں کو جان بچانے والی امداد فراہم کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

تنظیم کی حالیہ سرگرمیوں کے مطابق غذائیت، صحت، تعلیم، بچوں کے تحفظ، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور روزگار کے ذرائع سے متعلق امدادی پروگراموں کو مختلف انسانی بحرانوں سے متاثرہ علاقوں میں مزید وسعت دی گئی ہے۔ ورلڈ ویژن نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح تنازعات، قدرتی آفات اور معاشی عدم استحکام کا سب سے زیادہ منفی اثر بچوں پر پڑتا ہے۔

ورلڈ ویژن نے غربت، جبری بے دخلی اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ تنظیم پائیدار ترقی اور کمیونٹی کی مضبوطی کو فروغ دینے کے لیے طویل المدتی پروگراموں کے ذریعے تعلیم، معاشی خودمختاری، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور بچوں کی فلاح و بہبود کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بروقت بین الاقوامی امداد اور شہری آبادی کا تحفظ انسانی مصائب میں کمی، پائیدار امن اور ترقی کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

HRNW کی حمایت کریں

دنیا کی نمبر 1 خصوصی ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کی معاونت کریں تاکہ وہ انصاف، مساوات، امن، انسانی ہمدردی اور انسانی وقار کے فروغ کے اپنے مشن کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھ سکے۔ آپ کا قیمتی تعاون HRNW کو عالمی انسانی امدادی اقدامات اور کمزور طبقات کی خدمت کرنے والی تنظیموں کے بارے میں آزاد، حقائق پر مبنی اور بروقت رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

HRNW کی حمایت کریں:
https://www.hrnww.com/?page_id=1083

اعلانِ دستبرداری (Disclaimer)

یہ HRNW رپورٹ ورلڈ ویژن اور دیگر قابلِ اعتماد عوامی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اسے صرف خبروں اور معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ HRNW اپنی مکمل ادارتی خودمختاری برقرار رکھتا ہے اور اس رپورٹ کی اشاعت کو مذکورہ تنظیموں کے مؤقف یا آراء کی توثیق تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں