**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – اسلام آباد میں ایک 17 سالہ محنت کش لڑکی کے مبینہ اغواء، حبس اور زیادتی کے الزام پر اہلخانہ نے دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کے خلاف تھانہ گولڑہ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق سیکٹر **ایف-11 ٹو** کے سامنے جھگی میں رہنے والی لڑکی کو مبینہ طور پر بھکاری ایکٹ کے تحت کارروائی کے دوران پکڑا گیا، جس کے بعد الزام ہے کہ دو پولیس اہلکار اسے **دھریک موہری** میں واقع ایک مکان میں لے گئے، جہاں اسے کئی روز تک قید رکھا گیا اور مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لڑکی کو بازیاب کرایا، تاہم متاثرہ کی والدہ کے اچانک انتقال کے باعث وہ فوری طور پر قانونی کارروائی نہ کر سکے۔
خاندان کے مطابق بعد ازاں متاثرہ لڑکی ایک مرتبہ پھر پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی، جس کے بعد انہوں نے تھانہ گولڑہ میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کے خلاف درخواست دی۔
متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ قانونی کارروائی کرنے کے بجائے انہیں تھانے کے چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور فوری کارروائی نہیں کی جا رہی۔
دوسری جانب واقعے سے متعلق پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔
**حمایت کریں (Support HRNW):**
خواتین اور بچوں کے تحفظ، انصاف تک رسائی، انسانی حقوق کے فروغ اور متاثرین کی آواز اجاگر کرنے کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر متاثرہ خاندان کے الزامات اور درخواست کی بنیاد پر ہے۔ الزامات کی تصدیق قانونی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔ تمام افراد کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت، متاثرین کے حقوق اور قانونی تقاضوں کا احترام کرتا ہے۔


