**کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو)** – کوئٹہ کو ایران سے ملانے والی **تفتان-آر سی ڈی شاہراہ (این-40)** پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ایرانی **ایل پی جی گیس** اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے سیکڑوں باؤزر اور ٹرک **تفتان سرحد** پر پھنس گئے ہیں، جس سے سرحدی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
مقامی پولیس اور تاجروں کے مطابق پھنسنے والی گاڑیاں تفتان شہر کے داخلی راستے پر کھڑی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آر سی ڈی شاہراہ حالیہ عرصے میں متعدد حملوں کی زد میں رہی ہے، جن کا نشانہ بالخصوص ایران سے سامان اور ایل پی جی گیس لانے والی گاڑیاں بنتی رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز **دالبندین** کے نواحی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے **پانچ خالی باؤزرز** اور **تین باربردار بسوں** پر فائرنگ کی۔ حملے کے دوران ایک ایل پی جی باؤزر کو آگ لگا دی گئی، جبکہ بسوں کے ٹائروں پر فائرنگ کے باعث وہ ناکارہ ہو گئے۔
اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے حملوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز احتجاج اور ہڑتال کر چکے ہیں اور اس روٹ پر گاڑیاں چلانے سے انکار کیا تھا۔ بعد ازاں حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کر دی گئی، تاہم حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔
**اسسٹنٹ کمشنر تفتان عبداللہ کشانی** کے مطابق کچھ کارگو گاڑیاں حال ہی میں کوئٹہ روانہ کی گئی ہیں، جبکہ باقی گاڑیوں کو بھی سیکیورٹی انتظامات کے تحت قافلوں کی صورت میں روانہ کیا جائے گا۔
طویل تاخیر کے باعث تاجروں نے ایران سے **تازہ پھلوں اور سبزیوں کی درآمد** عارضی طور پر روک دی ہے۔ تفتان میں ایک مقامی کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ کے مطابق چند روز قبل ایران سے درآمد کیے گئے ٹماٹر شدید گرمی کے باعث خراب ہو گئے، جنہیں ضائع کرنا پڑا۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر مقامی انتظامیہ، پولیس اور تاجروں کے بیانات پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ صورتحال مسلسل تبدیل ہو سکتی ہے، اور متعلقہ حکام کی آئندہ معلومات کی روشنی میں مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔


