19

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** – جماعت اسلامی پاکستان کے **سیکریٹری جنرل امیر العظیم** انتقال کر گئے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال پر سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امیر العظیم **1958ء** میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ اسکول سنت نگر سے میٹرک، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے فزکس اور ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

وہ زمانۂ طالب علمی ہی میں **اسلامی جمعیت طلبہ** سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے **ناظمِ اعلیٰ** کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کے دوران انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں لانگ مارچ میں حصہ لیا اور اس سلسلے میں قید بھی کاٹی۔ دورانِ اسیری ہی انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

امیر العظیم نے جماعت اسلامی پاکستان میں مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ ایک طویل عرصے تک **مرکزی سیکریٹری اطلاعات** رہے، بعد ازاں **جماعت اسلامی لاہور** کے سیکریٹری جنرل اور امیر بھی مقرر ہوئے۔ **2019ء** میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کی مشاورت سے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی **سراج الحق** نے انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا **مرکزی سیکریٹری جنرل** مقرر کیا، جس منصب پر وہ اپنے انتقال تک خدمات انجام دیتے رہے۔

انسانی حقوق کے تناظر میں سیاسی و سماجی شخصیات کی خدمات کو یاد کرنا، اختلافِ رائے کے باوجود ان کے کردار اور عوامی خدمت کا احترام کرنا جمہوری اقدار اور رواداری کے فروغ کا اہم حصہ ہے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) یہ خبر عوامی آگاہی کے مقصد سے شائع کر رہا ہے اور مرحوم کے اہلِ خانہ، رفقاء اور چاہنے والوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں