کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) – فیڈرل بی ایریا، گلبرگ ٹاؤن ضلع وسطی کے پلاٹ نمبر C‑3 بلاک 17 پر واقع ایک پرانے رہائشی مکان کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر کمرشل بینک میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے خلاف مقامی عوام اور سماجی حلقے احتجاج کر رہے ہیں۔
مقامی رپورٹس اور ذرائع کے مطابق شب کے اندھیرے میں کی گئی اس تبدیلی کے بعد وہاں یو بی ایل بینک کی کمرشل تعمیرات مکمل کے آخری مراحل میں ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر گلبرگ ٹاؤن، کمال موٹا کی تعیناتی کے بعد علاقے کے مختلف بلاکس میں غیرقانونی کمرشل تعمیرات زور و شور سے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تعمیرات کے لیے لاکھوں روپے رشوت لی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کمرشل بینک کی تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کے خلاف کی گئی ہیں اور نہ تو اس کی کوئی منظوری ہے اور نہ ہی کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کی غیرقانونی تبدیلیاں رہائشی علاقوں کی ساخت، سیکیورٹی اور ماحول پر منفی اثرات مرتب کریں گی۔
سماجی اور مقامی حلقوں کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، چیف سیکرٹری سندھ اور وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر واقعہ کی شفاف انکوائری کی جائے اور اگر خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس غیرقانونی کمرشل بینک کو مسمار کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انسانی حقوق کا زاویہ
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ زمین کے استعمال اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی عوامی مفادات، رہائشی حقوق اور شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور متاثرہ رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ کسی بھی بدعنوانی یا رشوت خوری کے الزامات کی آزادانہ اور موثر تفتیش ہونی چاہیے۔
🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر مقامی ذرائع اور دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی فرد یا ادارے کی قانونی ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین مجاز عدالتی عمل کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کا مقصد انسانی حقوق، شفاف احتساب اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔


