**ڈھاکہ (ایچ آر این ڈبلیو)** – بنگلا دیشی حکام نے سابق وزیرِ اعظم **شیخ حسینہ واجد**، ان کے خاندان اور متعدد کاروباری گروپوں سے منسوب **6 ارب 20 کروڑ امریکی ڈالر (تقریباً 760 ارب ٹکا)** مالیت کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق ضبط کیے گئے اثاثوں کا تعلق شیخ حسینہ واجد، ان کے خاندان اور **10 کاروباری گروپوں** سے بتایا گیا ہے۔ بنگلا دیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر موجود اثاثوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک موجود بعض اثاثوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
بنگلا دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق **2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک** کے بعد شیخ حسینہ واجد اقتدار سے ہٹ گئیں اور بھارت چلی گئیں، جس کے بعد حکام نے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کا آغاز کیا۔
رپورٹس کے مطابق ان تحقیقات میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور ان بڑے کاروباری گروپوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ان کے تقریباً **15 سالہ دورِ حکومت** کے دوران غیر معمولی مالی فوائد حاصل کیے۔
تاحال شیخ حسینہ واجد یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ان الزامات اور اثاثوں کی ضبطی سے متعلق کوئی تفصیلی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
### **انسانی حقوق کا زاویہ**
**ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** اس بات پر زور دیتا ہے کہ بدعنوانی اور غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات **شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق** ہونی چاہییں، جبکہ ہر فرد کو **منصفانہ سماعت، قانونی دفاع اور بے گناہی کے اصول** کا مکمل حق حاصل ہے۔
احتسابی عمل کو سیاسی انتقام کے تاثر سے پاک رکھتے ہوئے، شواہد کی بنیاد پر اور عدالتی نگرانی میں آگے بڑھانا قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اگر غیر قانونی اثاثوں کے الزامات ثابت ہوں تو عوامی وسائل کی بازیابی اور احتساب بھی عوامی مفاد کا اہم تقاضا ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر بنگلا دیشی حکام اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ الزامات اور اثاثوں کی ضبطی سے متعلق معاملات قانونی کارروائی اور عدالتی عمل کے تابع ہیں، لہٰذا کسی بھی فرد یا ادارے کی ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ عدالتوں اور قانونی اداروں کے فیصلوں سے ہوگا۔ **ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** کا مقصد انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔ یہ خبر **HRNW (hrnww.com)** پر پہلے شائع شدہ مواد سے منسلک نہیں ہے۔


