4

نیپرا کی منظوری کے بعد بجلی صارفین پر 200 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا امکان، توانائی کی استطاعت پر خدشات

**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو)** – وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کے تحت **نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)** نے نیشنل گرڈ کمپنی کو سسٹم اخراجات کی مد میں **200 ارب روپے** وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق نیشنل گرڈ کمپنی نے گزشتہ تین سال کے ریونیو اخراجات کی وصولی کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر نیپرا نے سماعت مکمل کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کیا۔

اطلاعات کے مطابق منظور شدہ رقم کی وصولی **یکم اگست 2026** سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ رقم ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، جن میں لیسکو سمیت دیگر ادارے شامل ہیں، کے ذریعے صارفین سے وصول کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ڈسکوز کو ٹیرف کی مد میں اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس کے نتیجے میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اضافے اور صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ وصولیاں نیشنل گرڈ کے سسٹم اخراجات کی ادائیگی کے لیے کی جائیں گی، تاہم اس کے مالی اثرات براہِ راست گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

### **انسانی حقوق کا زاویہ**

**ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** اس بات پر زور دیتا ہے کہ **توانائی تک قابلِ استطاعت رسائی، شفاف ریگولیٹری فیصلے اور عوامی مفاد کا تحفظ** سماجی و معاشی حقوق کا اہم حصہ ہیں۔

بجلی کے نرخوں میں اضافہ کم آمدنی والے خاندانوں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں پر نمایاں مالی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ایسے فیصلوں میں شفافیت، عوامی مشاورت اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ توانائی کی بنیادی خدمات تک منصفانہ رسائی برقرار رہے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں**

👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ ریگولیٹری پیش رفت کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں کسی بھی حتمی اضافے یا اطلاق کا انحصار متعلقہ حکومتی اور ریگولیٹری فیصلوں پر ہوگا۔ **ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** کا مقصد انسانی حقوق، عوامی مفاد، معاشی انصاف، شفاف حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ یہ خبر **HRNW (hrnww.com)** پر پہلے شائع شدہ مواد سے منسلک نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں