**ابوظہبی (ایچ آراین ڈبلیو):**متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور متبادل تجارتی راستہ قائم کرنے کے لیے ایک نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
برطانوی اخبار **فنانشل ٹائمز** کی رپورٹ کے مطابق دبئی کی بندرگاہی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالنے والی اماراتی کمپنی **ڈی پی ورلڈ (DP World)** مشرقی ساحلی ریاست **فجیرہ** میں نئی بندرگاہ تعمیر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دبئی کی اہم بندرگاہ **جبل علی پورٹ** پر انحصار کم کرنا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ علاقائی کشیدگی، خصوصاً ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے اپنی معیشت اور تجارتی نظام کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
منصوبے کی تکمیل کی صورت میں کنٹینرز اور تجارتی سامان متحدہ عرب امارات میں داخل یا خارج ہونے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بجائے متبادل بندرگاہی راستے استعمال کر سکیں گے، جس سے سپلائی چین کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی اور تجارتی سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے باعث عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، عالمی امن، شفاف معلومات اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ ذرائع میں شائع ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ منصوبے سے متعلق تفصیلات میں مزید سرکاری اعلانات کے بعد تبدیلی ممکن ہے۔ HRNW غیرجانبدارانہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


