**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** حکومتِ سندھ کی جانب سے خصوصی افراد (Persons with Disabilities) کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف قوانین، پالیسیوں اور فلاحی پروگراموں کے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ کے متعدد سرکاری دفاتر، اسپتال، تعلیمی ادارے، پارکس، بس اسٹاپس اور دیگر عوامی مقامات اب بھی خصوصی افراد کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی نہیں بن سکے۔
سماجی شعبے کے ماہرین کے مطابق معذور افراد کے لیے **”قابلِ رسائی ماحول” (Accessible Environment)** صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ اس کے باوجود بیشتر سرکاری عمارتوں میں وہیل چیئر ریمپس، معیاری لفٹس، بریل سائن ایج، نابینا افراد کے لیے آڈیو رہنمائی، خصوصی واش رومز اور دیگر معاون سہولیات کا فقدان نمایاں ہے، جس کے باعث ہزاروں خصوصی افراد روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
خصوصی افراد اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں کسی بھی کام کے لیے جانا اکثر ایک دشوار مرحلہ بن جاتا ہے کیونکہ متعدد عمارتوں میں وہیل چیئر کے ذریعے رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی طرح بصارت سے محروم افراد کے لیے مناسب رہنمائی، جبکہ سماعت سے محروم افراد کے لیے اشاروں کی زبان اور معاون مواصلاتی سہولیات بھی محدود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی افراد کی فلاح کے لیے مختص بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور سہولیات کے نتائج کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر منصوبوں کی آزادانہ جانچ (Independent Evaluation)، باقاعدہ مالی آڈٹ، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اور عوامی رپورٹنگ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تو وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
گورننس کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہر نئے سرکاری ترقیاتی منصوبے، اسپتال، تعلیمی ادارے، پارک، بس اسٹاپ اور عوامی عمارت میں خصوصی افراد کے لیے عالمی معیار کے مطابق قابلِ رسائی سہولیات کو لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق تعمیر مکمل ہونے کے بعد تبدیلیاں کرنے کے بجائے منصوبہ بندی کے مرحلے ہی میں **یونیورسل ایکسیسبیلٹی (Universal Accessibility)** کو شامل کرنا زیادہ مؤثر اور کم لاگت حل ہے۔
سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خصوصی افراد کو صرف مالی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں تعلیم، صحت، روزگار، نقل و حرکت اور سرکاری خدمات تک مساوی رسائی دینا ریاست کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق جب تک بنیادی ڈھانچے کو خصوصی افراد کے لیے موزوں نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک انہیں معاشرے میں برابری کی بنیاد پر مکمل طور پر شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ماہرین نے حکومتِ سندھ، بلدیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی افراد سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، بجٹ کے استعمال کی شفاف نگرانی کی جائے، سالانہ کارکردگی رپورٹس عوام کے سامنے پیش کی جائیں اور خصوصی افراد کی نمائندہ تنظیموں کو منصوبہ بندی، نگرانی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر شہری کو مساوی مواقع اور باوقار زندگی میسر ہو۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، شفاف طرزِ حکمرانی، سماجی انصاف اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ رپورٹ دستیاب معلومات، ماہرین کی آراء اور متعلقہ سماجی حلقوں کے مؤقف کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے مقصد سے تیار کی گئی ہے۔ HRNW غیر جانبدارانہ صحافت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے مؤقف کا احترام کرتا ہے۔ اگر کسی متعلقہ ادارے یا فریق کی جانب سے وضاحت یا مؤقف موصول ہوتا ہے تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


