21

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سرکاری ملازمتوں میں مذہب کی بنیاد پر شرط غیر آئینی قرار

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی جانب سے خاکروب اور سینیٹری ورکرز کی بھرتی کو کسی مخصوص مذہب، خصوصاً مسیحی برادری، تک محدود کرنا آئینِ پاکستان کے منافی، امتیازی اور انسانی وقار کے خلاف ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازمتوں کے اشتہارات میں “صرف مسیحی امیدوار” یا “مسیحیوں کو ترجیح دی جائے گی” جیسی شرائط شامل کرنا غیر آئینی ہے۔

فیصلے کے مطابق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14، 25 اور 36 تمام شہریوں کو مساوات، انسانی وقار اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، لہٰذا مذہب، نسل، برادری یا قومیت کی بنیاد پر کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے امتیازی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ تمام سرکاری بھرتیوں کے اشتہارات مذہبی امتیاز سے پاک ہوں اور کسی بھی مخصوص طبقے کو کسی خاص ملازمت تک محدود نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں