20

بھارتی جج اکشے کمار دوویدی کی سادہ طرزِ زندگی اور فوری انصاف کی روایت، عوامی توجہ کا مرکز

**خنڈوا، مدھیہ پردیش:** بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق **اکشے کمار دوویدی**، جو مدھیہ پردیش کے ضلع خنڈوا میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنی سادہ زندگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جج اکشے کمار دوویدی نے سرکاری بنگلہ، وی آئی پی گاڑی اور دیگر متعدد سرکاری مراعات لینے سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے ہیں، اپنا کھانا خود تیار کرتے ہیں اور روزانہ عدالت پیدل جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے اپنی تنخواہ نصف کرنے کی درخواست کی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی ذاتی ملکیت میں صرف ایک موبائل فون ہے، جو انہیں ان کی والدہ نے تحفے میں دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے پوری زندگی غیر شادی شدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں تعینات کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ صرف ضروری سرکاری سہولیات ہی استعمال کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق جج بننے کا فیصلہ انہوں نے بچپن میں اس وقت کیا جب انہوں نے اپنی والدہ کو جائیداد کے تنازع کے باعث برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے دیکھا۔ یہی تجربہ ان کے لیے محرک بنا کہ وہ انصاف کے نظام کا حصہ بنیں اور لوگوں کو بروقت انصاف فراہم کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی عدالت میں آنے والے مقدمات، خصوصاً زمین اور جائیداد سے متعلق کیسز، کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سائلین کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

**نوٹ:** یہ معلومات بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ HRNW نے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے، لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ انہیں حتمی یا سرکاری طور پر مصدقہ معلومات نہ سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں