**جنیوا / نیویارک (ایچ آراین ڈبلیو)** – اقوام متحدہ نے 1 جولائی 2026 کو مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے ترقی سے متعلق ایک اہم سائنسی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس ٹیکنالوجی کے وسیع مواقع کے ساتھ ساتھ سنگین خطرات سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
رپورٹ، جو بین الاقوامی ماہرین کے ایک پینل نے تیار کی، میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت صحت، تعلیم، موسمیاتی نگرانی اور معاشی پیداوار جیسے عالمی نظاموں میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ اس میں غلط معلومات کے پھیلاؤ، معاشی عدم مساوات، سائبر سیکیورٹی خطرات اور عالمی سطح پر مشترکہ ضابطہ کاری کے فقدان جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ AI ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی تعاون، اخلاقی فریم ورک اور مؤثر گورننس نظام قائم کیے جائیں۔ توقع ہے کہ یہ نتائج آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر AI پالیسی مباحث پر نمایاں اثر ڈالیں گے۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے مختلف ادارے عالمی سلامتی کے چیلنجز اور پائیدار ترقی کے اہداف پر بھی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ٹیکنالوجی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر HRNW طرز کا خلاصہ ہے جو بین الاقوامی رپورٹس پر مبنی ہے، اور یہ اقوام متحدہ کا سرکاری بیان نہیں ہے۔


