25

سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت، میرٹ پر عملدرآمد سے متعلق سوالات اٹھا دیے گئے

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف دائر ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ میں مبینہ طور پر میرٹ اور بھرتیوں کے عمل سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے۔

درخواست گزار کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی بنیادی ذمہ داری اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر افسران کا انتخاب کرنا ہے، تاہم بعض کیسز میں ایسے امیدواروں کو انٹرویو میں فیل قرار دیا گیا جو تحریری امتحانات میں اعلیٰ نمبرز کے ساتھ کامیاب ہوئے تھے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کو نظر انداز کیا گیا۔ درخواست گزار نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک امیدوار جس نے تحریری امتحان میں 117 واں نمبر حاصل کیا تھا، اسے اوپن میرٹ پر آخری نمبر پر ایڈجسٹ کیا گیا۔

درخواست گزار نے سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے نیب یا ایف آئی اے کو سال 2024 اور 2025 کے دوران ہونے والی بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کی جا سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی قانونی ٹیم رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) ایکٹ کے تحت سندھ پبلک سروس کمیشن سے محکمہ سوشل ویلفیئر میں ہونے والی بھرتیوں کے انٹرویو ریکارڈز اور ویڈیوز حاصل کر کے عوام کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

**HRNW کی حمایت کریں:**
آزاد، غیر جانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW** کی معاونت کریں۔ آپ کا تعاون معیاری صحافت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:**
یہ خبر سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست اور درخواست گزار کے مؤقف پر مبنی ہے۔ **HRNW** غیر جانبدارانہ صحافت کے اصولوں کے مطابق تمام فریقین کے مؤقف کو جگہ دیتا ہے۔ چونکہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے کوئی بھی حتمی قانونی نتیجہ عدالت کے فیصلے سے مشروط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں