24

ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے تباہی، 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی طوفانی بارشوں، سیلابی ریلوں اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں نے متعدد شہروں میں معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور کئی مقامات پر مکانات، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سیف اللہ جھیل میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 6 سیاح جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک خاتون کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اٹک میں دیوار اور چھت گرنے کے مختلف واقعات میں دو بھائیوں سمیت تین افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔ لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ دیر بالا میں بھی آسمانی بجلی گرنے سے ایک مدرسے کی 20 طالبات زخمی ہوئیں۔

بلوچستان کے ضلع ژوب میں بارش کے دوران چھتیں گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔

ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں ایک گاڑی بہہ جانے سے تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ مردان میں تیز بارش کے باعث سائن بورڈ اور دیوار گرنے سے دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں موسلا دھار بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی، تاہم کئی علاقوں میں بجلی کے فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور، مریدکے اور گجرات میں بھی شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔

ہری پور میں تیز بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، جبکہ ایبٹ آباد میں شدید بارش کے بعد کئی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور بارش کا پانی دکانوں میں داخل ہو گیا۔

ادھر بلوچستان کے خضدار، ژوب اور کوہلو میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ صوابی میں بارش کے ساتھ ژالہ باری ہوئی۔ کراچی کے مختلف علاقوں، جن میں نیو کراچی، گلشنِ معمار اور گڈاپ شامل ہیں، میں بادل چھائے رہے اور ہلکی بوندا باندی ہوئی۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے نواحی علاقوں گیس بالا، گیس پائین اور نیاٹ ویلی میں مون سون بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس سے رابطہ سڑک متاثر ہوئی جبکہ سیلابی ریلہ کئی گھروں میں داخل ہو گیا۔

**HRNW کی حمایت کریں:**
آزاد، غیر جانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW** کی معاونت کریں۔ آپ کا تعاون معیاری صحافت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:**
یہ خبر متعلقہ سرکاری اداروں، ریسکیو حکام اور دستیاب اطلاعات پر مبنی ہے۔ **HRNW** غیر جانبدارانہ صحافت کے اصولوں کے مطابق خبر شائع کرتا ہے۔ جانی و مالی نقصانات سے متعلق اعداد و شمار اور دیگر تفصیلات ریسکیو اور انتظامی اداروں کی تازہ معلومات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں