لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر ردِعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ایک نجی گھر کے اندر قائم ٹیوشن سینٹر میں بچوں کو خستہ حال چھت کے نیچے پڑھایا جا رہا تھا، جو حادثے کا سبب بنا۔
صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق لاہور میں واقع کاہنہ کے اس ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والے واقعے کی وزیراعلیٰ پنجاب خود نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد بچوں کو بروقت ریسکیو کرکے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ ٹیوشن سینٹر ایک نجی گھر میں قائم تھا، جہاں حکومت کا براہِ راست عمل دخل نہیں ہوتا، تاہم حکومت کی اولین ترجیح بچوں کو ملبے سے بحفاظت نکالنا تھی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر 18 سے زائد بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ٹیوشن سینٹر میں تقریباً 35 بچے موجود تھے، تاہم حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹرز کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ مزید نقصان سے بچنے کے لیے ہیوی مشینری انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کی گئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت ہر طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے، مگر چونکہ یہ نجی ملکیت میں قائم ٹیوشن سینٹر تھا، اس لیے حکومتی نگرانی محدود تھی۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


