کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ایف آئی اے امیگریشن نے انڈونیشیا جانے والے دو مسافروں کو سائبر فراڈ نیٹ ورک سے مبینہ روابط پر کراچی ایئرپورٹ سے آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے مطابق مسافروں کو دورانِ امیگریشن کلیئرنس مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر مزید جانچ پڑتال کے لیے روکا گیا۔
ترجمان کے مطابق آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی شناخت حنظلہ عظیم (سکنہ فیصل آباد) اور احمد علی (سکنہ راولپنڈی) کے نام سے ہوئی، جو وزٹ ویزا پر انڈونیشیا جا رہے تھے۔ تفتیش کے دوران دونوں مسافروں نے انکشاف کیا کہ وہ کمبوڈیا میں قائم چینی کمپنی AB Technology سے منسلک رہے ہیں، جو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ سرگرمیوں میں ملوث تھی۔
مسافروں نے بتایا کہ مذکورہ کمپنی بعد ازاں اپنی سرگرمیاں انڈونیشیا منتقل کر چکی تھی اور ایک شخص جمی عرف جمشید کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے تھے۔ موبائل فونز کے تجزیے کے دوران مشکوک چیٹس، کال سینٹر اسکرپٹس اور دیگر مواد بھی برآمد ہوا۔
ترجمان کے مطابق مسافروں نے اعتراف کیا کہ انہیں کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ اسکرپٹس کے ذریعے صارفین سے رابطہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جبکہ جمی عرف جمشید نے انہیں دوبارہ انڈونیشیا میں ملازمت کی پیشکش کی اور سفری انتظامات بھی اسی نے کیے۔
مزید انکشاف میں بتایا گیا کہ دونوں مسافروں نے امیگریشن کلیئرنس کے لیے ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا اور کراچی ایئرپورٹ پر مبینہ سہولت کاری کی کوشش بھی کی گئی۔ مسافر احمد علی کے مطابق جمی عرف جمشید نے سفر کے شو منی کے طور پر اس کے اکاؤنٹ میں 3 لاکھ روپے منتقل کیے تھے۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ دونوں مسافروں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے دیگر افراد کو مذکورہ کمپنی میں شامل ہونے کے لیے راغب کیا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو آف لوڈ کر کے مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے۔


