کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور نتائج کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالت میں سماعت ہوئی، جس میں سندھ پبلک سروس کمیشن، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کی ری پریزینٹیشن پہلے ہی زیر التواء ہے، اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کسی تھرڈ پرسن کا کوئی کردار نہیں ہے اور درخواست گزاروں نے قانون کو بھی چیلنج نہیں کیا۔
دوسری جانب وکیلِ درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنے مفاد میں قوانین بنائے ہوئے ہیں، جس کے باعث شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں بار بار کوئی اور کیس لے کر نہ آئے۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ جب تک سزا نہیں ملے گی، معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔
عدالت میں موجود کامیاب امیدواروں کی جانب سے بار بار بولنے کی کوشش پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کے وکلا موجود ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو آپ کو بولنے کی اجازت دی جاتی۔
ایک متاثرہ امیدوار نے عدالت کو بتایا کہ بعض ایسے مضامین میں فائل کیا گیا ہے جو ممکن ہی نہیں، جس سے نتائج پر مزید شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔


