کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ۱۹ جون ۱۹۹۲ء کے بدنامِ زمانہ آپریشن کے چونتیس برس مکمل ہونے پر مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں ملکی تاریخ کے اس باب کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹ جون محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت اور فاشزم کی علامت ہے جس نے پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے آئین پسند اور بانیان پاکستان کی اولادوں کے وجود پر کاری ضرب لگائی بلکہ یہ آپریشن نظریہ پاکستان کے خلاف تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس خونی مہم کا حقیقی مقصد امن و امان کا قیام نہیں بلکہ جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظامِ سیاست کو تحفظ دینے کے لئے سندھ کے شہری سیاسی شعور کا گلا گھونٹنا تھا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جبرِ مسلسل کے حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ۱۹ جون ۱۹۹۲ء کی اس منحوس صبح کراچی حیدرآباد سکھر اور میرپورخاص پر جو یلغار کی گئی وہ دراصل مملکتِ خداداد کی معاشی شہ رگ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھی، آپریشن کلین اپ کے نام نہاد پردے میں حکومتی حلقوں نے اس متوسط طبقے کی انقلابی قیادت کو راستے سے ہٹانے کی بھیانک سازش رچی جس نے ایوانِ اقتدار میں بیٹھے وڈیروں کی نیندیں حرام کر دی تھیں، یہ آپریشن مہاجر نظریے ایک بانیان پاکستان کی اولادوں کے تہذیبی شناخت اور غریب و متوسط طبقے کی سیاسی بالادستی کے خلاف اس وقت کی حکومت کا براہِ راست حملہ تھا، آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے ۱۵ ہزار سے زائد بے گناہ اور جواں سال کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنا کر ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں ہزاروں کو لاپتہ کیا گیا اور لاکھوں خاندانوں کو معاشی و سماجی طور پر اپاہج کر دیا گیا، کراچی کے حقیقی اور آئینی مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کے لئے سنگینوں کے سائے میں کٹھ پتلی دھڑے تخلیق کیئے گئے، جب سے ابتک شہری سندھ پر مصنوعی قیادت کو مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں جو ہر دور میں ناکام ہوئیں، دشمنوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مہاجر کو مہاجر سے لڑا کر اس شہر کو مستقل خانہ جنگی کا مقتل بنا دیا جائے، اس آپریشن نے کراچی کے تعلیمی معاشی اور ثقافتی ڈھانچے کو وہ گہرے زخم لگائے جن کا خمیازہ یہ شہر اور ملک کی معیشت آج چونتیس برس بعد بھی بھگت رہی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا آج ساڑھے تین دہائیوں کا عرصہ گزرنے کے بعد ہم حکومت کے کارپردازوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا طاقت کے وحشیانہ استعمال اور عقوبت خانوں سے آپ اپنے مقاصد حاصل کر سکے؟ بندوق کے زور پر سیاسی نظریات کو قید کرنے اور عوام کے دلوں سے مہاجر شناخت و محبت کو کھرچنے کے تمام حربے کل بھی عبرت کا نشان بنے تھے اور آج بھی ناکام ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جبر کی دھوپ تیز ہوئی ایم کیو ایم کے کارکنوں کا عزمِ صمیم اور مضبوط ہوا، چیئرمین ایم کیو ایم نے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ ہم ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر قومی دھارے میں آگے بڑھنے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں لیکن اپنے شہداء کے بہتے لہو اسیروں کی چیخوں اور لاپتہ کارکنوں کی ماؤں کے آنسوؤں کا سودا کبھی نہیں کریں گے، فیصلہ سازوں کو اب یہ حتمی سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ کراچی پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے، سندھ کے شہری علاقوں کے سیاسی آئینی معاشی اور انتظامی حقوق کو تسلیم کیئے بغیر ملک میں حقیقی استحکام محض ایک سراب رہے گا، ہم آج کے دن تمام شہدائے حق پرست کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ظلم کی یہ کالی رات جتنی بھی طویل ہو حق و انصاف کا سورج اسی مٹی سے طلوع ہو کر رہے گا۔
*****
@all
6


