3

امریکا ایران مفاہمتی یادداشت: اسلام آباد میں دستخط، پاکستان ثالث مقرر

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** وزیرِاعظم پاکستان **محمد شہباز شریف** نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی تاریخی پیش رفت میں بطور ثالث *اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU)* پر دستخط کر دیے۔

وزیرِاعظم آفس کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر **امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ** اور **ایرانی صدر مسعود پزشکیان** کے الیکٹرانک دستخط موجود ہیں، جبکہ پاکستان نے ثالثی ریاست کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں ایران کی جانب سے **آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے** اور امریکا کی جانب سے بعض بحری پابندیاں ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں۔

وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان، قطر کے ساتھ مل کر، **19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں** اس پیش رفت کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی شروع ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے امریکا اور ایران کی قیادت، مذاکراتی ٹیموں اور علاقائی شراکت داروں کے کردار کو سراہا جبکہ پاکستانی عسکری قیادت کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں صدور نے دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، جس کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت میں مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام پر آئندہ تکنیکی مذاکرات، اور خطے میں کشیدگی میں کمی سے متعلق نکات شامل ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق معاہدے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے باضابطہ دستاویز “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے عنوان سے جاری کر دی ہے۔

### حمایت کی اپیل

بین الاقوامی امن اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)

یہ خبر مختلف سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔ حتمی متن اور تفصیلات متعلقہ حکومتوں کی باضابطہ تصدیق کے بعد ہی حتمی سمجھی جائیں گی۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کا پابند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں