**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** شہر قائد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے، جہاں رواں سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران مختلف جرائم اور حادثات میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں کراچی میں **222 افراد قتل** جبکہ **356 افراد زخمی** ہوئے۔ اسی عرصے میں اغوا کے **1480 واقعات** رپورٹ کیے گئے، جو پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بھی **690 حملے** ہوئے، جس سے سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
چوری اور اسٹریٹ کرائم کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں **472 کاریں** اور **3704 موٹر سائیکلیں** چوری ہوئیں، جبکہ **77 کاریں** اور **1184 موٹر سائیکلیں** اسلحے کے زور پر چھینی گئیں۔
ڈکیتی مزاحمت کے دوران **32 شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے**، جس سے متعدد خاندان سوگوار ہوئے۔ اس کے علاوہ **83 گھروں** اور **51 دکانوں** میں ڈکیتی کے واقعات پیش آئے، جبکہ مجموعی طور پر **1169 لوٹ مار کے واقعات** رپورٹ ہوئے۔
ٹریفک حادثات کی صورتحال بھی انتہائی سنگین رہی، جہاں پانچ ماہ کے دوران **434 افراد جاں بحق** اور **5050 زخمی** ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات ٹریلرز اور واٹر ٹینکرز کی ٹکروں کے باعث ہوئیں۔
ادھر ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کیس کے ملزم اور ضمانت پر موجود افسر **آصف رضا بلوچ** کی اہم عہدے پر تعیناتی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس نے محکمانہ شفافیت اور احتساب کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم اور ٹریفک حادثات پر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
—
### اپیل برائے تعاون
شہری تحفظ، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔
**تعاون کے لیے وزٹ کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### اہم ہدایت (Important Note):
یہ رپورٹ سرکاری و ادارہ جاتی اعداد و شمار اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔ صورتحال میں تبدیلی ممکن ہے۔ HRNW ذمہ دارانہ اور متوازن صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔


