8

اسکیم 36 میں غیر قانونی تعمیرات دھڑلے سے جاری، بلڈرز کی جانب سے افسران کو 20 لاکھ روپے مبینہ رشوت دینے کا انکشاف

**اسکیم 36 میں غیر قانونی تعمیرات دھڑلے سے جاری، بلڈرز کی جانب سے افسران کو 20 لاکھ روپے مبینہ رشوت دینے کا انکشاف، ڈی جی ایس بی سی اے سے فوری نوٹس کا مطالبہ**

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** کراچی کے علاقے اسکیم 36 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بلا خوف و خطر جاری ہے۔ علاقے میں تعینات ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر چشم پوشی اختیار کر لی ہے، جس کے باعث بلڈرز مافیا سرگرم ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اسکیم 36 کے بلاک 11 میں واقع **پلاٹ نمبر RZ-181** پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کسی بھی قسم کی منظوری (Approval) حاصل کیے بغیر سیکنڈ اور تھرڈ فلور (دوسری اور تیسری منزل) کی غیر قانونی تعمیرات دھڑلے سے کی جا رہی ہیں۔

علاقہ مکینوں اور باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ غیر قانونی پروجیکٹ کے بلڈرز، جن کی شناخت **سعد اور ایوب** کے نام سے ہوئی ہے، نے کھلم کھلا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے علاقے میں تعینات ایس بی سی اے کے افسران کو مبینہ طور پر **20 لاکھ روپے** کی خطیر رقم دے کر “خرید” لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ عملہ اس سنگین خلاف ورزی پر مکمل طور پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

اسکیم 36 بلاک 11 کے رہائشیوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایس بی سی اے **مزمل حسین ہالیپوٹو** سے فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، غیر قانونی پورشنز کو مسمار کرایا جائے اور مبینہ کرپشن میں ملوث بلڈرز اور کالی بھیڑوں کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ٹاؤن بیسڈ نظام کے شفاف ہونے کا دعویٰ سچ ثابت ہو سکے۔

> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> انسانی حقوق، بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں اور کرپشن کے خلاف بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں