6

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی پاک فارما اینڈ ہیلتھ کیئر نمائش و کانفرنس میں شرکت

کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیرِ صحت **سید مصطفیٰ کمال** نے 20ویں سالانہ **پاک فارما اینڈ ہیلتھ کیئر نمائش و کانفرنس** کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر شعبے سے وابستہ اہم شخصیات، ماہرینِ صحت، صنعت کاروں اور مختلف اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے اپنے خطاب میں پاکستان میں **فارماسیوٹیکل صنعت کے فروغ، معیاری ادویات کی دستیابی، مقامی سطح پر ادویات کی پیداوار** اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ترقی کے لیے مقامی صنعت کو فروغ دینا اور جدید ٹیکنالوجی و تحقیق سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد ایونٹ منیجر اور **Prime Event Management** کے ڈائریکٹر **کامران عباسی** نے وفاقی وزیرِ صحت کو نمائش کے مختلف اسٹالز کا دورہ کروایا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت کو مختلف نمائش کنندگان کی مصنوعات اور خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

سید مصطفیٰ کمال نے نمائش میں شریک مختلف کمپنیوں اور اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر شعبے میں نجی شعبے کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

معیاری، محفوظ اور مؤثر ادویات کی دستیابی ہر شہری کا بنیادی عوامی مفاد ہے۔ مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کا فروغ، تحقیق میں سرمایہ کاری اور ادویات کے معیار کو یقینی بنانا صحت عامہ کے لیے اہم اقدامات ہیں۔

### HRNW سپورٹ اپیل

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** عوامی مفاد، صحت، انسانی حقوق اور معاشرتی مسائل سے متعلق اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ HRNW کی آزادانہ صحافت اور عوامی خدمت کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔

[HRNW Support Appeal — تعاون کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### HRNW کا مؤقف

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** شہریوں کو معیاری طبی سہولیات اور محفوظ ادویات کی فراہمی، صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی صحت کے تحفظ کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ پریس ریلیز اور معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تقریب میں کیے گئے بیانات اور دیگر تفصیلات کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کے سرکاری ریکارڈ سے کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں