اسلام آباد: (ایچ آراین ڈبلیو)سپریم کورٹ کے تفصیلی حکم کے مطابق **عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا**، جہاں وہ **16 ستمبر تک زیرِ علاج** رہیں گے۔
عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کے علاج اور طبی نگرانی کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال ایک **میڈیکل بورڈ تشکیل دے گا**۔ میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالجین کے ساتھ ان کی بہن **ڈاکٹر اُزمٰی خان** بھی شامل ہوں گی۔
### اہلِ خانہ سے ملاقات اور ٹیلی فون پر رابطہ
تفصیلی حکم میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو **ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات** کی اجازت ہوگی، جبکہ ان کے بیٹوں کو ان سے **ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت** بھی ہوگی۔
عدالت کے مطابق عمران خان کی طبی رپورٹس کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا جائے گا اور ان کی طبی معلومات کی رازداری برقرار رکھی جائے گی۔
### ہسپتال کے باہر سیاسی اجتماع پر پابندی
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کے علاج کے دوران **شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر کسی قسم کا سیاسی اجتماع یا احتجاجی مظاہرہ منعقد نہیں کیا جائے گا**۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے طبی معاملے کو **سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی**۔
عدالتی حکم کے مطابق علاج، طبی نگرانی، اہلِ خانہ سے ملاقات اور دیگر معاملات مقررہ شرائط کے تحت انجام دیے جائیں گے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
زیرِ حراست یا زیرِ علاج شخص کو مناسب طبی سہولیات، علاج اور اہلِ خانہ سے مناسب رابطے کی سہولت فراہم کرنا انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کا اہم حصہ ہے۔ ساتھ ہی مریض کی طبی معلومات کی رازداری کا احترام بھی ضروری ہے۔
### HRNW سپورٹ اپیل
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ HRNW کی آزادانہ صحافت اور عوامی خدمت کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔
[HRNW Support Appeal — تعاون کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### HRNW کا مؤقف
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** زیرِ حراست افراد سمیت تمام شہریوں کے لیے مناسب طبی سہولیات، انسانی وقار اور قانونی حقوق کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ عدالتی احکامات پر مکمل اور شفاف عملدرآمد ضروری ہے۔
**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ سپریم کورٹ کے تفصیلی حکم کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی حکم کی حتمی تشریح اور اس میں موجود شرائط کے لیے اصل عدالتی دستاویز کو ترجیح دی جائے۔


