کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی میں مبینہ کرپشن اور غیر قانونی تعمیرات کے گرد گھومنے والے معاملات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض سیاسی شخصیات، سرکاری افسران، بلڈرز، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر بااثر عناصر کے درمیان مبینہ طور پر ایسا نظام قائم ہو چکا ہے جس میں پہلے شکایات درج کروائی جاتی ہیں، پھر اینٹی کرپشن، عدالتوں اور دیگر اداروں کے ذریعے دباؤ ڈالا جاتا ہے اور بعد ازاں معاملات مبینہ طور پر مفاہمت اور مالی لین دین کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک خط میں اورنگی ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے اعجاز الحق نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو متعدد مقامات پر غیر قانونی تعمیرات اور پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی اور انہدام کے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی۔ خط میں گلشن بہار، پاکستان بازار اور دیگر علاقوں میں واقع متعدد پلاٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ وہاں ایس بی سی اے قوانین اور لینڈ لیز کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض ایس بی سی اے افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے خطوط اور شکایات کو بعد ازاں متعلقہ فریقین پر دباؤ ڈالنے اور مبینہ مالی معاملات طے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ افسران کے مطابق جب بعض مطالبات پورے نہیں ہوتے تو شکایات، مقدمات اور میڈیا مہمات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعد میں مبینہ طور پر معاملات طے پا جاتے ہیں۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ماضی میں بھی مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، زمینوں کی الاٹمنٹ، این او سی اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ بعض افسران کے مطابق ٹی ایم سی اورنگی، پی ڈی اورنگی اور دیگر متعلقہ دفاتر کے بعض اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
ذرائع کے مطابق صباح الاسلام، انیق احمد، توقیر درباری، ناصر، طاہر، شہباز، جمال اختر، تنویر اور دیگر افراد کے نام بھی مختلف معاملات میں زیر گردش ہیں، تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
بلدیاتی اداروں سے وابستہ بعض افسران کا کہنا ہے کہ اگر واقعی غیر قانونی تعمیرات، رشوت ستانی، سیاسی مداخلت اور مبینہ بھتہ خوری کے الزامات موجود ہیں تو صرف ماتحت عملے ہی نہیں بلکہ متعلقہ سیاسی شخصیات، سرکاری افسران اور شکایات درج کروانے والے تمام کرداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹی کرپشن، محکمہ بلدیات، ایس بی سی اے، تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام اورنگی ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، این او سیز، زمینوں کے معاملات، مبینہ سیاسی مداخلت اور وکیل اعظم ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کیے جانے والے مقدمات سمیت تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کریں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین ہو سکے اور عوام کے سامنے حقائق لائے جا سکیں۔


