کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی میں وفاقی بجٹ کی منظوری کے مرحلے کے دوران سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے وفاقی بجٹ میں اپنے ووٹ کو کسی مطالبے سے مشروط نہیں کیا اور وہ اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ پارٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بجٹ کے خلاف ووٹ دینے کا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے مطابق گورنر سندھ کی تبدیلی پارٹی کا باضابطہ مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی نامزد گورنر کی تعیناتی سے متعلق کوئی شرط عائد کی گئی ہے۔ تاہم چند روز قبل سینئر رہنما فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر بنانے سے متعلق مؤقف دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی تجاویز پر کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی پیکجز کو آئندہ بجٹ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح ایم کیو ایم کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے تحت سالانہ 18 لاکھ روپے یا اس سے کم آمدن والے افراد کو ٹیکس استثنیٰ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اتحادی حکومت کے ساتھ بجٹ منظوری کے عمل میں تعاون جاری رکھے گی۔


