**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ حکومت نے صوبے بھر سے منشیات کے خاتمے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے ایک علیحدہ اور خصوصی “نارکوٹکس کنٹرول فورس” قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اہم اجلاس کے بعد پریس کلب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نئی قائم ہونے والی نارکوٹکس کنٹرول فورس اور سندھ پولیس باہم مل کر صوبے سے منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور کارروائیاں کریں گی۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران نارکوٹکس کنٹرول فورس کے دائرہ کار اور اس کے کام کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے پولیس کو بھی خصوصی اختیارات تفویض کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے بتاتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا کہ ‘پنکی’ نامی ملزمہ یا نیٹ ورک کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں 12 کیسز سندھ میں، 1 کیس اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کے پاس اور 5 کیسز پنجاب میں درج ہیں۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں عزم کا اظہار کیا کہ پنکی کیس میں ملوث کسی بھی بااثر یا مجرم فرد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین عبرتناک سزا یقینی بنائی جائے گی۔
—
**انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں – ہمارے مشن کا حصہ بنیں!**
انسانی حقوق کے عالمی پورٹل **HRNW** کی معاونت کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے اپنا تعاون پیش کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


