**نصیرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان جوڑے، صبغا اور محمد رمضان نے نصیرآباد پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت اور اعلیٰ حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی دردمندانہ اپیل کی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے لڑکی صبغا اور نوجوان محمد رمضان نے بتایا کہ ان کا ایک سال قبل فون پر رابطہ ہوا تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تعلق میں بدل گیا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کے والد اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی ایک عمر رسیدہ شخص سے کرنا چاہتے تھے، جس سے بچنے کے لیے اس نے مجبوراً اپنے گھر سے صرف ضروری کپڑے لیے اور دو دن کا طویل سفر طے کر کے بدین پہنچیں، جہاں انہوں نے عدالت میں قانونی طور پر نکاح کر لیا۔
نوبیاہتا جوڑے نے اپنے خاندانوں کی جانب سے جان کے شدید خطرے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فی الفور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ کم عمر نوجوانوں کے موبائل اور سوشل میڈیا روابط کس حد تک ان کی زندگی کے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں، اور والدین کی مرضی اور نئی نسل کے فیصلوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلے کا یہ رجحان معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
—
**انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں – ہمارے مشن کا حصہ بنیں!**
انسانی حقوق کے عالمی پورٹل **HRNW** کی معاونت کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے اپنا تعاون پیش کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


