3

*ہل پارک کی تاریخی پہاڑی کاٹ کر غیر قانونی پلاٹنگ اور اراضی کی بندر بانٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،

کراچی۔۔۔(ایچ آراین ڈبلیو) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق، سابق میئر کراچی وسیم اختر اور قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی، پارلیمانی لیڈر افتخار احمد دیگر تنظیمی ذمہ داران کے ہمراہ ہل پارک کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کی سرکاری زمینوں کی سنگین بندر بانٹ، ماحولیاتی تباہی اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت ترین چارج شیٹ پیش کر دی ہے، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے یہ حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کراچی کو نوچنے والے درندوں اور لینڈ گریبرز کے رحم و کرم پر اس شہرِ بے آساں کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا کیونکہ گزشتہ 18 برسوں سے صوبے پر مسلط کرپٹ اور بدعنوان ترین صوبائی حکومت کی سرپرستی میں اس معاشی شہ رگ کو آہستہ آہستہ مافیاز کے حوالے کر کے جرائم کی آماجگاہ بنایا جا رہا ہے، انہوں نے ہل پارک کی موجودہ زبوں حالی اور حالیہ قبضے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہل پارک کا حقیقی تشخص یہاں کے پہاڑ اور ہرے بھرے درخت ہیں لیکن محض پریس کانفرنس سے 15 دن قبل سنگین بدعنوانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہاڑی کو کاٹ کر غیر قانونی طور پر پلاٹ بنا دیا گیا ہے جس کا پی ای سی ایچ ایس کے ماسٹر پلان میں دور دور تک کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، انہوں نے کے ایم سی اور پی ای سی ایچ ایس کے کرتا دھرتاؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر پارکس نے خطیر رقم کے عوض غیر قانونی این او سی جاری کی ہے، اگر آج ہل بیچ دی گئی تو کل یہ مافیا پورا پارک بیچ دے گا، لہذا ڈائریکٹر لینڈ، ڈائریکٹر پارکس اور پی ای سی ایچ ایس کے ڈائریکٹر کو فوری طور پر نیب کے حوالے کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے اور ہائی کورٹ اس بدعنوانی کا ازخود نوٹس لے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کلفٹن للی برج کے نیچے 983 گز کی غیر قانونی الاٹمنٹ پر جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سیف الدین ایڈوکیٹ پی ای سی ایچ ایس کے قانونی مشیر ہیں اسی لیے جماعت اسلامی ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود اس مجرمانہ قبضے پر چادر تان کر سوئی ہوئی ہے، اس موقع پر سابق میئر کراچی و سینئر رہنما وسیم اختر نے گفتگو کرتے ہوئے یاد دلایا کہ کراچی کے عوام گواہ ہیں کہ 2018 اور 2019 میں ایم کیو ایم نے عدالتی محاذ پر جنگ لڑ کر باغِ ابنِ قاسم اور نہرِ خیام سے چار منزلہ غیر قانونی عمارتیں گرائیں اور کڈنی ہل پارک سمیت ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات کا خاتمہ کیا لیکن اب دوبارہ نہرِ خیام، بیچ ویو اور بینظیر بھٹو پارک کی زمینوں پر سرعام انکروچمنٹ کی جا رہی ہے، انہوں نے مقتدر حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سنگین معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں ورنہ یہ زمینیں پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی حکومت بیچ کھائے گی اور ایم کیو ایم ابھی زندہ ہے اور ان لٹیروں کو بھرپور منہ دے سکتی ہے، پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے تاریخی فلاحی و تعلیمی اقدامات بشمول 50 ہزار بچوں کو آئی ٹی کی مفت تعلیم دینے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مخالفین کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں اور جلن کے مارے اب شاہراہِ بھٹو کے اطراف قبضے شروع کر دیے گئے ہیں، انہوں نے سابق گورنر کی بحالی اور معاشی استحکام میں ان کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ لاشوں اور شہادتوں کا کارڈ کھیل کر کراچی کا استحصال کرتی ہے جبکہ ہمارے ایم این ایز کے حلقوں میں 25 ارب روپے کی لاگت سے ریکارڈ ترقیاتی کاموں کا آغاز ہونے جا رہا ہے، انہوں نے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں کراچی کے ہونہار طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کی حقیقی خودمختاری اور آئین کے آرٹیکل 140-A کا نفاذ ایم کیو ایم کا 35 سالہ دیرینہ مطالبہ ہے جس کے لیے اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے سندھ کی وڈیرہ شاہی جماعت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ کھڑی ہوں گی، اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران، ٹاؤن و یو سی سطح کے کارکنان سمیت علاقہ مکینوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں