**ایبٹ آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – ایبٹ آباد میں انسانی سفاکی اور اخلاقی گراوٹ کا ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اپنے شوہر کو بے ہوش کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا اور شواہد چھپانے کے لیے مقتول کا سر کاٹ کر فریج میں محفوظ کر دیا۔ دونوں ملزمان مقتول کی لاش کے ٹکڑے گھر ہی میں چھپا کر 18 دن تک معمول کی زندگی گزارتے رہے۔
اس لرزہ خیز قتل کیس کی سنسنی خیز تفصیلات درج ذیل ہیں:
### گھناؤنی سازش اور لرزہ خیز قتل
* **منصوبہ بندی کے تحت قتل:** پولیس تفتیش کے مطابق، خاتون اپنے شوہر سے سخت نالاں تھی اور گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات میں مبتلا تھی۔ دونوں ملزمان نے مل کر شوہر کو راستے سے ہٹانے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا اور رات کے اندھیرے میں اسے بے ہوش کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔
* **فریج میں سر محفوظ کیا:** قتل کی واردات کے بعد ملزمان نے انتہائی بیدردی سے مقتول کا سر دھڑ سے الگ کر دیا اور اسے گھر کے فریج میں چھپا دیا تاکہ تعفن اور بو نہ پھیلے اور پڑوسیوں یا رشتہ داروں کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔ لاش کے باقی حصوں کو بھی گھر کے مختلف حصوں میں ہی دبا اور چھپا دیا گیا۔
### 18 دن بعد تعفن پھیلنے پر راز فاش
* **پڑوسیوں کی اطلاع:** ہولناک واردات کے بعد دونوں ملزمان اسی گھر میں لگ بھگ 18 دن تک سکون سے معمول کی زندگی بسر کرتے رہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ جب لاش کے ٹکڑے گل سڑ گئے اور گھر سے شدید مشکوک تعفن اٹھنے لگا، تو پڑوسیوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
* **پولیس کا چھاپہ اور برآمدگی:** اطلاع ملتے ہی پولیس نے متاثرہ گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران فریج سے مقتول کا کٹا ہوا سر اور گھر کے دیگر حصوں سے لاش کے باقی بریدہ ٹکڑے برآمد کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
### ملزمان کا اعترافِ جرم اور قانونی کارروائی
* **بغیر پچھتاوے کے اعتراف:** گرفتاری کے بعد تھانے میں تفتیش کے دوران خاتون نے اپنے جرم کا کھلم کھلا اعتراف کرتے ہوئے بیان دیا کہ اس کا شوہر اسے تنگ کرتا تھا اور وہ اپنے آشنا کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی تھی، اسی لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ دوسرے ملزم (آشنا) نے بھی اپنے جرم کا مکمل اعتراف کر لیا ہے۔
* **مقدمہ درج:** پولیس نے سفاک ملزمان کے خلاف قتلِ عمد، لاش کی بے حرمتی، توڑ پھوڑ اور شواہد کو مجرمانہ طریقے سے چھپانے کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
اس ہولناک واقعے نے پورے ایبٹ آباد میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ماہرینِ نفسیات اور سماجی حلقوں کی جانب سے خاندانی نظام کے بکھراؤ اور معاشرتی و اخلاقی اقدار کے زوال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


