5

حکومت دو سال کے لیے پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر برقرار رکھے : حافظ نعیم الرحمٰن

**کراچی (HRNW)** – جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرول کی قیمت کو اگلے دو سال کے لیے 250 روپے فی لیٹر کی سطح پر منجمد کرنے کا باضابطہ اعلان کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرول کی موجودہ قیمتوں میں محض 22 روپے کی معمولی کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، جبکہ اس وقت عوام کو ریلیف دینے کے لیے قیمتوں میں کم از کم 122 روپے فی لیٹر کمی کی اشد ضرورت ہے۔

امیر جماعت اسلامی کے عوامی فلاحی مطالبے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

### دو سال کے لیے قیمتوں کو مستحکم کرنے کا مطالبہ

* **250 روپے فی لیٹر کی حد:** حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اتار چڑھاؤ کر کے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے بجائے پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کرے اور اسے اگلے دو سال تک اسی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرے۔
* **عوامی معیشت کو سہارا:** ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمے گا، کاروباری طبقے کو استحکام ملے گا اور عام آدمی کے بجٹ کو ریلیف حاصل ہو سکے گا۔

### 22 روپے نہیں، 122 روپے کی حقیقی کمی کی ضرورت

* **حکومتی ریلیف ناکافی:** امیر جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ معمولی کمی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس وقت شدید معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کا شکار ہیں، ایسے میں 22 روپے کی کمی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
* **حقیقی ریلیف کا فارمولا:** انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکسوں کی بھرمار کم کرے اور پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر کم از کم 122 روپے کی بڑی اور واضح کمی کر کے غریب اور متوسط طبقے کو سانس لینے کا موقع فراہم کرے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر کے مظلوم عوام کی آواز بن کر ان کے حقوق کی جنگ لاتی رہے گی اور حکومت کو عوامی مفادات کے خلاف فیصلے کرنے سے روکے گی۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں