**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – پاکستان اسٹیل ملز میں قیمتی سامان اور دھاتوں کی چوری کے حوالے سے ایک حیران کن اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں اسٹیل ملز کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہی چوروں کے سرپرست نکلے۔ ایس ایس پی ملیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کی جانے والی ایک بڑی کارروائی کے دوران ایس ایچ او بن قاسم فیصل رفیق نے ایک منظم گروہ کے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس سنسنی خیز اسکینڈل اور پولیس کارروائی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
### گرفتار ملزمان اور چوری کا طریقہ کار (Modus Operandi)
* **گرفتار پولیس اہلکار:** پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 15 مددگار بن قاسم کے اہلکار شامل ہیں جن کی شناخت پی سی عرفان شاہ، پی سی سعد اللہ، پی سی منیب، پی سی رحمت اور پی سی محمد علی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
* **گرفتار اسکریپ ڈیلرز و دیگر ملزمان:** گروہ کے دیگر 5 گرفتار کارندوں میں عبدالکریم ولد غلام قادر، معشوق علی ولد رفیق گبول، صدام حسین ولد حسین بخش، جاوید ولد اللہ بخش اور قاضی طاہر ولد نظام الدین شامل ہیں۔
* **روشن مری نیٹ ورک کا انکشاف:** ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک پاکستان اسٹیل ملز میں ہونے والی چوری کی وارداتوں میں ملوث تھا اور مبینہ طور پر علاقے کے بدنام زمانہ ملزم روشن مری کے لیے کام کر رہا تھا۔
* **ڈیوٹی کی آڑ میں سہولت کاری:** تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی سی عرفان شاہ چوروں کی مختلف ٹیموں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کے اندر داخل کرواتا تھا، جبکہ دیگر پولیس اہلکار اندر سے چوری شدہ سامان وصول کرکے اسے عرفان شاہ تک پہنچاتے تھے، جسے بعد میں اسکریپ ڈیلرز کو فروخت کر دیا جاتا تھا۔
### برآمدگی اور یونینز کا مؤقف
* **مالِ مسروقہ کی برآمدگی:** کامیاب کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 30 کلو گرام چوری شدہ تانبہ (Copper)، وارداتوں میں استعمال ہونے والی 3 موٹر سائیکلیں اور متعدد موبائل فونز برآمد کر لیے گئے ہیں۔
* **متحد بار کے مؤقف کی تصدیق:** اس ہائی پروفائل گرفتاری کے بعد متحدہ لیبر یونینز اور بارز (متحد بار) کا وہ مؤقف سچ ثابت ہو گیا ہے جس میں انہوں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اربوں روپے کے اثاثوں کی چوری میں خود بعض پولیس اہلکار براہِ راست ملوث ہیں۔ حالیہ انکشافات نے ان کے اس مؤقف کو سو فیصد درست ثابت کر دیا ہے۔
اس اہم ترین نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد اب عوامی اور صنعتی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا اس چوری کے پیچھے چھپے تمام بااثر کرداروں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا یا یہ کارروائی روایتی طور پر صرف چند نچلے درجے کے ملازمین تک ہی محدود رہے گی؟
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


