**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر عائد کی گئی ناکہ بندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں توسیع پر ہونے والے اہم اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پیشرفت کا اعلان کیا۔
اس سفارتی اور دفاعی پیشرفت کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
### امریکی بحری جہازوں کی واپسی کا عمل
* **ناکہ بندی کا خاتمہ:** صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
* **گھر واپسی کا آغاز:** صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد اب خطے میں موجود ہمارے امریکی بحری جہاز گھر واپسی کا عمل باقاعدہ شروع کر سکتے ہیں۔
### ایران کے سامنے رکھی گئی امریکی شرائط
امریکی صدر نے واضح کیا کہ جنگ بندی یا کسی بھی مستقل مفاہمت کے لیے ایران کو واشنگٹن کے درج ذیل سخت مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا:
* **جوہری ہتھیاروں پر مستقل پابندی:** ایران کو اس بات پر مکمل طور پر متفق ہونا پڑے گا کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی کوئی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے پاس رکھے گا۔
* **آبنائے ہرمز کو کھولنے کا حکم:** امریکی صدر نے اصرار کیا کہ ایران کو بین الاقوامی بحری آمدورفت اور تجارتی گزرگاہ کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مستقل بنیادوں پر کھولنا ہوگا۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے ناکہ بندی ختم ہونے کا اعلان کیا ہے، تاہم نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے پر ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس تاحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ ابھی اس معاہدے کی حتمی توثیق کے لیے تیار نہیں ہیں۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


