**لاڑکانہ (ایچ آراین ڈبلیو)** – سوشل میڈیا پر حسنین بھٹو نامی بچے پر مبینہ تشدد اور اس کے نتیجے میں فوتگی سے متعلق چلنے والی خبروں پر ایس ایس پی لاڑکانہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری اور سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس مبینہ واقعے کی اب تک کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
### ایس ایس پی لاڑکانہ کا نوٹس اور انکوائری افسر کا تعیّن
* **اعلیٰ سطح نوٹس:** ایس ایس پی لاڑکانہ جناب احمد چوہدری صاحب (QPM, PSP) نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کا فوری نوٹس لیا ہے۔
* **انکوائری افسر مقرر:** واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی (DSP) حیدری، احمد بخش راہوجو صاحب کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔
### متعلقہ تھانے کی ابتدائی رپورٹ اور والد پر شک
* **بچوں کا جھگڑا:** متعلقہ ایس ایچ او تھانہ حیدری، انسپیکٹر گلزار احمد برڑو کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ واقعہ 20 مئی کو بچوں کی آپسی لڑائی کے دوران پیش آیا تھا۔
* **والد کا مبینہ تشدد:** ابتدائی تحقیقات کے دوران متوفی بچے کے والد کی جانب سے بھی اس پر تشدد کیے جانے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔
* **پولیس کو لاعلم رکھنے کی کوشش:** اس افسوسناک واقعے کے متعلق ورثاء (گھر والوں) نے متعلقہ تھانے میں کوئی اطلاع یا رپورٹ درج نہیں کروائی تھی۔
### ورثاء کا کارروائی سے گریز اور پولیس کا سخت مؤقف
* **قانونی کارروائی سے انکار:** پولیس حکام کی جانب سے رابطہ کرنے پر بچے کے ورثاء نے پوسٹ مارٹم کروانے سمیت کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور وہ معاملے کو دبانا چاہتے ہیں۔
* **ایس ایس پی کے سخت احکامات:** جناب ایس ایس پی صاحب لاڑکانہ نے ورثاء کے انکار کو مسترد کرتے ہوئے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ہر صورت بچے کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے اور قانون کے مطابق تمام سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


