**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کا بیرونی قرض حاصل کیا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور (اقتصادی امور ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ شرح گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہے، جب حکومت نے 6 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے لیے بیرونی مالی معاونت کا مجموعی تخمینہ 19 ارب 39 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں سے صرف اپریل کے مہینے میں ساڑھے 4 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ مئی اور جون کے دوران مزید قرضے لیے جانے کا امکان ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
### بیرونی آمدن اور گرانٹس کے اعداد و شمار
* **اضافی قرض:** گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 5 ارب ڈالر زائد قرضہ ملا۔ اس کے علاوہ، جولائی سے اپریل تک 12 کروڑ ڈالر کی امدادی گرانٹ بھی موصول ہوئی۔
* **مقامی کرنسی میں حجم:** پاکستانی روپے کے لحاظ سے حکومت کو اب تک 3 ہزار 103 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔ پورے مالی سال میں بیرونی ذرائع سے مجموعی طور پر 5 ہزار 720 ارب روپے قرض لینے کا تخمینہ ہے۔
* **آئی ایم ایف کے فنڈز:** پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے ملنے والا 2.5 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ اس رقم کے علاوہ ہے۔
* **امدادی زمرے:** 10 ماہ کے دوران نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 8 ارب 31 کروڑ ڈالر (بشمول بجٹ سپورٹ کے لیے 4586 ارب روپے سے زائد) اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 2 ارب 75 کروڑ 66 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔
### عالمی اداروں اور دوست ممالک سے معاونت
* **سعودی عرب اور چین:** سعودی عرب نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت (آئل فیسلیٹی) فراہم کی۔ دونوں ممالک سے مجموعی طور پر 9 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹ رول اوور کرنے کا تخمینہ ہے (سعودی عرب 5 ارب، چین 4 ارب)، جس میں سے سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر رول اوور ہو چکے ہیں۔
* **بین الاقوامی مالیاتی ادارے:** عالمی بینک گروپ سے 1 ارب 66 کروڑ 39 لاکھ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1 ارب 92 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، اور اسلامی ترقیاتی بینک سے 48 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے (جہاں سے سالانہ 86 کروڑ ڈالر کا تخمینہ ہے)۔
* **ادائیگیاں:** اپریل کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) کو 3 ارب ڈالر کا قرض واپس بھی کیا گیا۔
### ماہانہ بنیادوں پر قرضوں کا حصول (پاکستانی روپے میں)
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ اپریل میں سب سے زیادہ 1Ref ہزار 246 ارب روپے کا بیرونی قرض حاصل کیا گیا۔ اس سے قبل کے مہینوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
* **جولائی:** 198 ارب روپے | **اگست:** 192 ارب روپے | **ستمبر:** 124 ارب روپے
* **اکتوبر:** 133 ارب روپے | **نومبر:** 144 ارب روپے | **دسمبر:** 413 ارب روپے
* **جنوری:** 175 ارب روپے | **فروری:** 193 ارب روپے | **مارچ:** 204 ارب روپے
دستاویزات کے مطابق پراجیکٹ فنانسنگ کی مد میں باہمی اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی طور پر 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیے جانے کا ہدف ہے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


