5

لورالائی: طبقاتی نظامِ تعلیم آئین اور پاکستان کے ساتھ بغاوت ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا بیان

**لورالائی (ایچ آراین ڈبلیو)** امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں رائج طبقاتی نظامِ تعلیم آئینِ پاکستان اور اس ملک کے ساتھ کھلی بغاوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے علاقے لورالائی میں جماعت اسلامی کے فلاحی و تعلیمی منصوبے ’بنو قابل‘ کی ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک پر ہمیشہ سے وڈیروں، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس کا قبضہ رہا ہے۔ انہوں نے مروجہ نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر میں پونے تین کروڑ (27.5 ملین) بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو کہ یہاں کے جاگیردار حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حالات سے مایوس نہ ہوں، امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ہمیشہ ظلم و زیادتی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ آج پاکستان کو محض چہرے یا افراد بدلنے کی نہیں بلکہ پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘بنو قابل’ پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق میٹرک تک مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن لورالائی جیسے پسماندہ ضلع میں 35 ہزار سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ حکمرانوں نے جو سسٹم بنایا ہے وہ عوام کو تعلیم دینے کے بجائے انہیں جاہل رکھ کر ان پر ظلم کر رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے معاشی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غریب موٹر سائیکل چلانے والا تو بھاری ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ایران کے ساتھ سستے پیٹرول اور گیس کا معاہدہ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اگر پاک-ایران گیس پائپ لائن چلے گی تو ملکی صنعت کا پہیہ چلے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خود بلوچستان کا خطہ گیس کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود اس سے محروم ہے، حالانکہ ورچوئل پائپ لائن کے ذریعے پورے بلوچستان کو گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ماربل کی قیمتی کانیں موجود ہیں جنہیں درست طریقے سے استعمال میں لا کر صوبے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں