**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** گارڈن ویسٹ نشتر روڈ پر ایک معمولی تصادم کے دوران صلح صفائی کرانا سماجی کارکن عبدالقادر میمن کو مہنگا پڑ گیا۔ ڈسٹرکٹ سٹی میں تعینات پولیس اہلکاروں نے اپنے 40 سے 50 ساتھیوں کے ساتھ مل کر سماجی کارکن کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
ذرائع کے مطابق، عبدالقادر میمن پر اسلحے کے بٹ، ڈنڈوں اور نوک دار چیزوں سے حملہ کیا گیا، جس کے باعث ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد گارڈن تھانے میں پولیس اہلکاروں سمیت 40 سے 50 صورت شناس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں نامزد ملزمان میں پولیس اہلکار عامر تنولی، ماجد تنولی، مہران تنولی اور منصور نیازی شامل ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق، عبدالقادر میمن نے جب موقع پر صلح کرانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملزمان کے 40 سے 50 ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے۔ گارڈن تھانے میں درج اس مقدمے میں فساد، مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
سماجی کارکن عبدالقادر میمن نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ عبدالقادر میمن ماضی میں معروف ‘پنکی کیس’ کے اہم شواہد منظر عام پر لا چکے ہیں اور شہر میں ڈمپر حادثات کے خلاف آواز اٹھانے پر پہلے بھی مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر پولیس کے خلاف شواہد سامنے لانے اور دیگر عوامی معاملات پر آواز اٹھانے کی پاداش میں انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


