**کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو)** چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے ایک خوفناک اور زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد شہید اور 53 زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس اور ریسکیو ذرائع نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب علاقے سے ایک ٹرین گزرنے کی تیاری میں تھی۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور امدادی کارکن فوراً موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ذرائع کے مطابق اب تک 23 لاشیں ہسپتال منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، ٹرین میں سوار مسافروں کی ایک بڑی تعداد عید کی چھٹیاں منانے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک یہ المناک واقعہ پیش آیا، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو فوری طور پر ڈیوٹی پر طلب کر لیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


