ملک میں گیس کا بحران شدید، آر ایل این جی کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ آر ایل این جی (RLNG) کی سپلائی میں ہونے والی غیر معمولی کمی بتائی جا رہی ہے۔

سپلائی میں بڑی گراوٹ
سوئی ناردرن کے ذرائع کے مطابق، ملک میں گیس کی یومیہ سپلائی جو ایران امریکہ کشیدگی سے قبل 1200 ملین کیوبک فٹ تھی، اب کم ہو کر صرف 700 ملین کیوبک فٹ رہ گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث گیس کا مجموعی شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔

متاثرہ شعبے
گیس کی کمی کے باعث درج ذیل شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں:

پاور اور کھاد سیکٹر: ان اہم شعبوں کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

گھریلو صارفین: عام شہریوں کے لیے گیس سپلائی میں نمایاں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

حکام کا موقف
سوئی گیس حکام کا دعویٰ ہے کہ تمام تر بحران کے باوجود کھانے کے تینوں اوقات میں صارفین کو پوری گیس فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اور سوئی ناردرن کے ذرائع اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

انسانی حقوق کی آواز بنیں!
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNWW) کی کوششوں کو سپورٹ کرنے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ مزید معلومات اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر وزٹ کریں:

سپورٹ لنک: HRNWW Support Page

اپنا تبصرہ بھیجیں